رسائی کے لنکس

طالبان کے بدلے مغوی فوجیوں کی رہائی کی پیشکش

  • ب

فائل فوٹو

فائل فوٹو

قبائلی علاقوں میں سرگرم طالبان جنگجوؤں نے منگل کے روز حکومت ِپاکستان کی حراست میں اپنے ساتھیوں کے بدلے 33 فوجیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی ہے ۔

اطلاعات کے مطابق عسکریت پسندوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس پیشکش کو رد کرنے کی صورت میں حکام سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

تقریباً دو ہفتے قبل بیسیوں جنگجوؤں نے مہمند ایجنسی میں ایک سرحدی چوکی پر حملے میں فرنٹیر کور سے تعلق رکھنے والے متعدد فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ حکام نے تصدیق کی تھی کہ کچھ اہلکار راستہ بھول کر افغان سرحد عبور کر گئے تھے جنہیں افغان فورسز نے اپنی تحویل میں لے کر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے پہنچا دیا تھا۔

شدت پسندوں نے جھڑپ میں مارے گئے چھ فوجیوں کی لاشیں جمعے کے روز مہمند میں قبائلی عمائدین کے حوالے کیں تھیں۔

واضح رہے کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا جن 33 فوجیوں کی رہائی کی پیشکش کی گئی ہے وہ وہی اہلکار ہیں جن کو طالبان کے بقول رواں ماہ افغان سرحد کے قریب ایک چوکی پر حملے کے دوران یرغمال بنا گیا تھا۔

طالبان نے کہا ہے مغوی فوجیوں کی رہائی کے سلسلے میں شرائط قبائلی عمائدین کے ذریعے طے کی جائیں۔

XS
SM
MD
LG