رسائی کے لنکس

وزیرستان: باہمی جھڑپوں میں متعدد شدت پسند ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

شدت پسندوں کے ان گروپوں کے درمیان یہ جھڑپیں ایسے وقت ہوئی ہیں جب طالبان نے حکومت سے مذاکرات کے لیے 10 اپریل تک فائر بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے دو دھڑوں کے درمیان گزشتہ اتوار سے ہونے والی جھڑپوں میں اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد لگ بھگ 30 ہو گئی ہے۔

تاہم جس علاقے میں متحارب گروپوں کے درمیان یہ جھڑپیں ہوئیں وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کو رسائی نہیں اس لیے آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق ممکن نہیں۔

قبائلی ذرائع کے مطابق خان سید سجنا اور ولی الرحمان گروپ کے جنگجوؤں کے درمیان یہ جھڑپیں ہوئیں۔

گزشتہ سال نومبر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد خان سید سجنا کو تنظیم کے نئے امیر کے لیے ایک مضبوط اُمیدوار تصور کیا جا رہا تھا۔

لیکن طالبان کی شوریٰ نے سوات سے تعلق رکھنے والے ملا فضل اللہ کو تحریک طالبان کا سربراہ مقرر کر دیا تھا۔

تجزیہ کار بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمود شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ متحارب گروپوں کے درمیان ان جھڑپوں سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان اختلافات کی عکاسی ہوتی ہے۔

’’یہ اختلاف اب بڑھ گئے ہیں، یعنی خونی جھڑپوں میں بدل گئے ہیں۔‘‘

شدت پسندوں کے ان گروپوں کے درمیان یہ جھڑپیں ایسے وقت ہوئی ہیں جب طالبان نے حکومت سے مذاکرات کے لیے 10 اپریل تک فائر بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔

محمود شاہ کہتے ہیں کہ حالیہ جھڑپوں کا بظاہر حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اُن کے بقول حکیم اللہ محسود کے بعد تحریک طالبان پاکستان میں شامل تمام گروپوں کو یکجا رکھنا ایک مشکل کام ہے۔

تحریک طالبان پاکستان میں کئی چھوٹے بڑے گروپ شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کا مرکز وزیرستان ہی رہا ہے اور محسود قبیلے کے جنگجوؤں ہی میں سے اس کے سربراہ بنتے آئے لیکن پہلی مرتبہ سوات سے تعلق رکھنے والے ملا فضل اللہ کو اب امیر بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ اختلافات زیادہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG