رسائی کے لنکس

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور رپوٹرز ود آؤٹ بارڈر کو ارسال کردہ اس خط میں پاکستانی ریاست کو بظاہر اپنا دشمن قرار دیتے ہوئے طالبان کا کہنا تھا کہ انہیں مختلف تضحیک آمیز ناموں سے میڈیا میں پکارا جاتا ہے۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے صحافیوں کے حقوق کی دو بین الاقوامی تنظیموں کو خط کے ذریعے شکایت کی ہے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ان کے بقول صحافتی اقدار کے منافی جانب داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور رپوٹرز ود آؤٹ بارڈر کو ارسال کردہ اس خط میں پاکستانی ریاست کو بظاہر اپنا دشمن قرار دیتے ہوئے طالبان کا کہنا تھا کہ انہیں مختلف تضحیک آمیز ناموں سے میڈیا میں پکارا جاتا ہے اور ان کو صحیح کوریج نہیں دی جاتی۔ طالبان نے دھمکی دی کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو صحافیوں اور ان کے اداروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

رپوٹرز ود آؤٹ بارڈر کے پاکستان میں نمائندے اقبال خٹک نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اسے ملک میں شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے خطرناک قرار دیا جو کہ ان کے مطابق پہلے سے مختلف ریاستی اداروں و غیر ریاستی عناصر کی طرف سے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

’’میں نہیں سمجھتا کہ میڈیا چاہتا ہے کہ کسی تعصب یا جانبداری کے ساتھ کام کرے لیکن حالات اجازت نہیں دیتے کہ وہ آزادانہ اپنی اداراتی پالیسی بنائیں اور رپورٹنگ اپنے نقطہ نظر سے کریں۔ ہر طرف سے دباؤ ہے میڈیا پر۔‘‘

پاکستان میں صحافیوں کو اس سے پہلے بھی شدت پسندوں نے اپنی مہلک کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے اور پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو صحافیوں کے لیے خطرناک تصور کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں ملک میں 70 صحافی مارے جا چکے ہیں۔

القاعدہ سے منسلک عسکریت پسندوں کی طرف سے گزشتہ سال اکتوبر میں ان کے بقول ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں ایسے صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کو جائز قرار دیا گیا جو طالبان کے لیے اپنی رپورٹس میں عسکریت پسند، شدت پسند یا دہشت گرد جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان کے ایک موقر انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر ضیا الدین کا مقامی میڈیا پر جانبداری کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا۔

’’وہاں (قبائلی علاقے میں) صحافیوں کی موجودگی نہیں جو بھی معلومات ملتی ہے فوج کی طرف سے ملتی ہے اور پہلی مرتبہ انہوں (طالبان) نے کہا ہے کہ ہمارا بھی موقف دیں۔ پہلے یہ اپنا موقف تو دیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ دباؤ میں ہیں اور اگر ایسا نا ہوتا تو یہ ٹیلی فون پر بات کرتے۔‘‘

عسکریت پسندوں کی میڈیا کو دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے رکن محمد طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت یا کسی بھی ریاستی ادارے کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرنے پر پوری قوم متفق ہے۔

’’سی این این یا دوسرے بین الاقوامی چینلز دیکھ لیں، برطانیہ میں تو خود ایسے حالات رہے وہاں اس طرح کی چیزوں کو کوریج اس حد تک نہیں دی جاتی اور اس بات کا خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے نا صرف ایک ملک کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے بلکہ عام عوام کی جانوں کو بھی۔ اگر طالبان کو کوریج ملی بھی تو اس کے باوجود انہوں نے میڈیا پر حملے کیے۔‘‘

طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے دھمکی آمیز خط ایک ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے جس میں فوج کے ترجمان کے مطابق 600 سو سے زائد شدت پسندوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول اور رابطوں کا نظام ناکارہ کر دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG