رسائی کے لنکس

تازہ بیانات سے پاکستانی طالبان سربراہ کے حوالے سے مزید شکوک و شبہات

  • ب

حکیم اللہ کی ایک پرانی وڈیو جس میں وہ خوست میں خودکش حملہ کرنے والے حملہ آور کے ساتھ بیٹھا ہے۔

حکیم اللہ کی ایک پرانی وڈیو جس میں وہ خوست میں خودکش حملہ کرنے والے حملہ آور کے ساتھ بیٹھا ہے۔

اِنٹر نیٹ پر پاکستانی طالبان کی جانب سے جاری کیے جانے والے دوتازہ ویڈیو پیغامات نے ان سوالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے کے کیا واقعی اس عسکریت پسند تنظیم کا سربراہ حکیم الله محسود اس سال جنوری میں پاکستانی قبائلی علاقے میں پیش آنے والے ایک امریکی میزائل حملے میں ہلاک ہو چکا ہے؟

گذشتہ ہفتے کئی خبر رساں اداروں نے نا معلوم پاکستانی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے رپورٹس جاری کی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ حکیم الله محسود بغیر پائلٹ کے امریکی طیارے سے کیے گئے حملے میں زندہ بچ گیاتھا مگر اس واقعے کے بعد وہ شدت پسند تنظیم میں اپنے کلیدی کردار سے محروم ہو چکا ہے۔

پچھلے ہفتے کے اواخر میں سامنے آنے والے ان دو بیانات میں سے ایک میں حکیم الله محسود خود بات کرتا دکھائی دیتاہے جبکہ دوسرے میں اس کی ایک منجمد تصویر کے ساتھ بظاہر اس کی آواز میں پیغام سنائی دیتا ہے۔گو کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ بیان کب ریکارڈ کیے گئے لیکن ان میں اپریل کی مخصوص تاریخوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

نو منٹ کے اپنے پہلے پیغام میں شدت پسند کمانڈر نے 4 اپریل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ خیریت سے ہے اور اس کی صحت اچھی ہے۔ حکیم اللہ نے اپنے مارے جانے کی اطلاعات کو پراپیگنڈاقرار دیا ۔

دوسرے بیان میں حکیم لله محسود نے امریکہ کے اندر حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔ دو منٹ سے زائد وقت پر محیط اس پیغام میں شدت پسند کمانڈرکی تصویر کے ساتھ امریکہ کا ایک نقشہ بھی نمایا ں ہے جس میں تین جگہ دھماکوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ البتہ تفصیلی نقشہ نا ہونے کی وجہ سے اس کو دیکھ کر شہروں کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

حکیم الله محسود کا کہنا تھا کہ اب شدت پسند تنظیم کا مرکزی نشانہ امریکہ کے شہر ہیں اور ان کے مطابق ”کچھ دنوں یاہفتوں میں اچھی خبر ملے گی“۔ حکیم الله کا کہنا تھا کہ بیان 19 اپریل کو ریکارڈ کیا گیا۔

یہ پیغامات اس وقت سامنے آیے ہیں جب امریکہ کے شہر نیو یارک کے مصروف ترین تفریحی علاقے میں واقع مشہور ٹائمز سکوائر پرہفتے کے روز ایک کار بم کوحکام نے ناکارہ بنا دیا تھا۔ نیویارک کے گورنر ڈیوڈ پیٹرسن نے اسے دہشت گردی کی ایک کارروائی قرار دیا تھا جبکہ مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایک پاکستانی گروپ نے اس ناکام حملے کو طالبان سے منسلک کیا ہے مگر پولیس کے پاس اس دعوے کو ثابت کرنے کے حوالے سے تا حال کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

تازہ بیانات سے پاکستانی طالبان سربراہ کے حوالے سے مزید شکوک و شبہات

تازہ بیانات سے پاکستانی طالبان سربراہ کے حوالے سے مزید شکوک و شبہات

پاکستانی طالبان کی اکثریت افغانستان سے ملحقہ شمال مغربی قبائلی علاقے میں موجود ہے جہاں سے شدت پسند نا صرف ملک کے اندر فوج اور حکومتی اہداف کو نشانہ بناتے رہے ہیں بلکہ القاعدہ اور افغان طالبان کے ساتھ مل کر افغانستان میں موجود اتحادی افواج پر خطرناک حملوں میں بھی شامل ہوئے ہیں۔

امریکی عہدیداران کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ان علاقوں میں شدت پسندوں کا خاتمہ لازمی ہے۔ پاکستانی فوج نے گذشتہ مہینوں سے قبائیلی علاواجات میں بھرپور کاروائیوں کا آغاز کر رکھا لیکن کچھ ناقدین کی رائے میں صرف ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن سے پاکستان کو خطرہ ہے۔

XS
SM
MD
LG