رسائی کے لنکس

مذاکرات کو ڈرون حملے میں ’ہلاک‘ نہیں ہونے دیں گے: پرویز رشید


وزیر اطلاعات پرویز رشید

وزیر اطلاعات پرویز رشید

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں سے مذاکرات کے فیصلے کے بعد کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں پاکستان کو قیمتی جانی نقصان ہوا لیکن حکومت نے مذاکرات روکنے کی کوشش نہیں کی۔

پاکستان کے وزیراطلاعات نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ہونے والے ڈرون حملے کے باوجود حکومت مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور امید ہے کہ طالبان بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کریں گے۔

ہفتہ کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ ’’یہ ڈرون حملہ مذاکرات پر ہوا لیکن ہم مذاکرات کو ہلاک نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

جمعہ کی شام شمالی وزیرستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوگیا تھا۔ تاہم وزیر اطلاعات نے اس بارے میں کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں سے مذاکرات کے فیصلے کے بعد کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں پاکستان کو قیمتی جانی نقصان ہوا لیکن حکومت نے مذاکرات روکنے کی کوشش نہیں کی۔

’’ہمارے کئی قیمتی پاکستانی ، میجر جنرل صاحب تھے اور سکیورٹی فورسز کے لوگ تھے انھیں نشانہ بنایا گیا۔۔۔ ہمارا موقف یہی رہا کہ ہم مذاکرات کے اپنے ملک میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو جو جذبہ ہم نے دکھایا تو مجھے یقین ہے کہ دوسرا فریق بھی اس جذبے کو قائم رکھے گا۔‘‘

وزیراطلاعات نے ڈرون حملے بند کروانے کے لیے نیٹو سپلائی معطل کرنے کے بعض مطالبات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں نیٹو سپلائی کی بندش کے باوجود ڈرون حملے جاری رہے لہذا ان کے بقول یہ معاملے کا کوئی حل نہیں ہے۔

پرویز رشید نے کہا کہ ان کی حکومت جنگ کو مزید بڑھانے کی بجائے اسے ختم کرنا چاہتی ہے۔

’’جنگ کے مقابلے میں جنگ، آگ کو مزید بھڑکاتی ہے ہماری حکومت جنگ اور آگ پر پانی ڈالنا چاہتی ہے، ہم آگ کو بھڑکانا نہیں چاہتے۔‘‘
XS
SM
MD
LG