رسائی کے لنکس

طالبان سے براہ راست مذاکرات کے ’مقام‘ پر اتفاق


طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق

سمیع الحق نے کہا کہ جس مقام پر مذاکرات ہوں گے وہ ’’پیس زون‘‘ ہو گا اور دونوں فریق اپنے مطالبات سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے۔

پاکستانی حکومت کی تشکیل کردہ سرکاری مذاکراتی کمیٹی اور کالعدم تحریک طالبان کی شوریٰ کے درمیان پہلے براہ راست مذاکرات کے مقام پر اتفاق ہو گیا ہے، جو بات چیت کے لیے ’’پیس زون‘‘ ہو گا۔

تاہم نا تو حکومت اور نا ہی طالبان کے مذاکرات کاروں نے بات چیت کے لیے طے پانے والے مقام کا نام ظاہر کیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی سربراہی میں سرکاری مذاکراتی کمیٹی اور طالبان کی نامزد شخصیات کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات ہفتہ کو اسلام آباد میں ہوئی۔

جس کا مقصد وفاقی سیکرٹری حبیب اللہ خٹک کی قیادت میں تشکیل دی گئی چار رکنی نئی سرکاری کمیٹی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ کے درمیان براہ راست مذاکرات کے مقام اور ایجنڈے کو حتمی شکل دینا تھا۔

وفاقی دارالحکومت میں دو گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے اجلاس کے بعد طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ براہ راست مذاکرات جلد ہوں گے۔

’’جگہ کا تعین اتفاق رائے سے ہو چکا ہے، دونوں فریقوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے اور انا کا مسئلہ نہیں بنایا ہے۔ دو تین دن میں اس مقام پر مذاکرات شروع ہو جائیں گے، یہ ایک بڑی اچھی پیش رفت ہے۔‘‘

سمیع الحق نے کہا کہ تحریک طالبان سے مذاکرات میں دونوں فریق اپنے مطالبات سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے۔

’’ہم کردار ادا کریں گے کہ (اگر) کوئی ڈیڈ لاک آیا تو اس کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘


وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے جمعہ کو کہا تھا کہ مذاکرات کا نازک مرحلہ شروع ہونے کو ہے۔ تاہم اُنھوں نے بھی واضح کیا تھا کہ وہ شدت پسند عناصر جو ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات چیت کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

حکومت کی تشکیل کردہ پہلی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت کے کئی دور ہوئے جس کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے مارچ کے اوائل میں ایک ماہ کی ’فائر بندی‘ کا اعلان کیا تھا۔

جس کے بعد حکومت کی طرف سے بھی طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اگرچہ فائر بندی کے اعلان کے باوجود وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی کچہری سمیت ملک کے مختلف مقامات پر دہشت گرد حملے ہوئے۔ تاہم طالبان نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

لیکن غیر معروف شدت پسند تنظیم احرار الہند نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے بیانات میں دعویٰ کیا کہ وہ ماضی میں تحریک طالبان پاکستان کا حصہ رہ چکی ہے۔

طالبان سے مذاکرات کے لیے تشکیل کردہ سرکاری کمیٹی پورٹس اور شیپنگ کے وفاقی سیکرٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے رستم شاہ مہمند پر مشتمل ہے
XS
SM
MD
LG