رسائی کے لنکس

ن لیگ کے بیشتر قانون ساز فوجی کارروائی کے حق میں: وزیر مملکت


 مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس

امین الحسنات کا کہنا تھا کہ حکومت شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے تاہم مذاکرات یا آپریشن کا فیصلہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

وزیر مملکت برائے مذہبی اُمور امین الحسنات نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بیشتر قانون سازوں نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

پیر کو ہونے والے اجلاس میں شرکاء کے مطابق ملک کو درپیش خونریز شدت پسندی سے متعلق صورتحال اور اس کے تدارک کے لیے تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا اور قانون سازوں نے اپنی آراء سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

وزیر مملکت نے اجلاس کے بعد وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
’’وہاں (اجلاس میں) جب یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کون مذاکرات کے حق میں ہے اور کون اس کے خلاف تو میرے خیال میں مذاکرات کے حق میں لوگ اگرچہ تھے مگر اکثریت کا موقف تھا کہ حد ہو گئی ہے اور ایک حد کے بعد ملک و قوم کی بقاء کے لیے کوئی نا کوئی ایکشن کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘‘


امین الحسنات کا کہنا تھا کہ حکومت شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے تاہم مذاکرات یا آپریشن کا فیصلہ آئندہ کابینہ کے اجلاس میں مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

حکومت کے لیے شدت پسندی سے متعلق سخت فیصلے کرنے سے متعلق سیاسی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے امین الحسنات کا کہنا تھا۔

’’ہمارے اندر بھی ان (شدت پسندوں) کے ساتھ رشتہ، تعلق رکھتے ہیں۔ میں خود سوچ رہا ہوں کہ 240 دن حکومت کو ہو گئے ہیں اور 242 حملے ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 دنوں میں 30 حملے ہو چکے ہیں تو یہ چیزیں بڑی پریشان کن ہیں لیکن بہرحال معاملات فیصلے کے قریب ہیں۔‘‘

حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی جس میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت کئی شہری مارے گئے اور اس کے فوراً بعد کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان کی طرف سے حکومت کو مذاکرات کی مشروط پیش کش بھی کی گئی۔

حکومت کی اتحادی مذہبی و سایسی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیئر رہنما اور وزیر مملکت غفور حیدری کا کہنا تھا کہ

’’اب تو جنگ ہو رہی ہے، تو ہماری آرمی کو وہ (شدت پسند) جہاں ملتے ہیں تو وہ انہیں مارتے ہیں اور ہماری فوجی یا پولیش والا یا جہاں موقعہ ملتا ہے وہ (عسکریت پسند) بھی دباؤ بڑھانے کے لیے حملہ کرتے ہیں۔ لیکن دونوں طرف سے جنگ بندی ہونی چاہیئے اور یک سوئی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیئے۔ اگر وہاں چیزیں طے نا ہوں تو پھر دوسرا (کارروائی کا ) آپشن تو ہے نا۔‘‘

خیبر پختونخواہ کی حمکران اور قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے قانون سازشہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی شدت پسندی سے متعلق پالیسی اب بھی ابہام کا شکار ہے۔

’’تمام سیاسی جماعتوں اس پر راضی ہوئی تھیں کہ مذاکرات کو موقع دیا جائے (تو) مذاکرات تو ہوئے ہی نہیں۔ حکومت کے لوگ ابہام کا شکار ہیں وزیر داخلہ کچھ اور کہتے ہیں اور وزیر اطلاعات کچھ اور۔ آپ نے جو بھی آپریشن کرنا ہے پارلیمان کو اعتماد میں لیں۔‘‘

تاہم وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے پارلیمان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں یہ جنگ کسی بھی صورت پاکستان کے لیے نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا شدت پسندی کے خلاف جنگ جینے کے لیے کسی بھی فیصلے پر میڈیا سمیت تمام حلقوں کو حکومت کا ساتھ دینا ہو گا۔

القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے مقامی ذرائع ابلاغ کو اپنے حالیہ بیان حکومت سے مطالبہ کہ وہ مجوزہ مذاکرات کے لیے اپنی ’’سنجیدگی‘‘ ثابت کرے۔
XS
SM
MD
LG