رسائی کے لنکس

انسداد دہشت گردی حکومت کی اولین ترجیح ہے: نواز شریف


وزیراعظم نواز شریف

وزیراعظم نواز شریف

شدت پسندوں سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے، شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قانون ساز محمد نذیر خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو قبائلی علاقوں میں ترجیحی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے بھی شروع کرنا ہوں گے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ملک میں قیام امن کے لیے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو شروع کیا جائے۔

یہ تجویز انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ’’قومی سلامتی اور سکیورٹی‘‘ سے متعلق امور پر بدھ کو ہونے والے مشاورتی اجلاس میں دی جس میں چند وزراء اور سرکاری حکام بھی موجود تھے۔

اجلاس کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے قانون سازوں کا کہنا تھا کہ ان تمام کی رائے میں یہ مذاکرات قبائلی علاقوں کی روایات کے مطابق کیے جائیں جس سے ان کے بقول موثر اور دیرپا قیام امن ممکن ہے۔

باجوڑ سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان نے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بات چیت میں زیادہ توجہ اس نکتے پر دی گئی کہ کس طرح قبائلی جرگے کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جائیں۔

’’بے اختیار جرگہ کیا کر سکے گا؟ ملکی یا قبائلی سطح پر بنائے جانے والا جرگہ اور بات چیت کرنے والے لوگ با اختیار ہونے چاہیئں۔‘‘


گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں 40 ہزار پاکستانی مارے گئے وہیں شدت پسند قبائلی علاقوں میں حکومت کے کئی حامی قبائلی عمائدین کو بھی ہلاک کر چکے ہیں۔

شدت پسندوں سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے، شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قانون ساز محمد نذیر خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو قبائلی علاقوں میں ترجیحی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے بھی شروع کرنا ہوں گے۔

’’قبائلی علاقوں کا مسئلہ تعلیم، صحت، سڑکیں اور روزگار ہے اگر یہ مہیا ہو جائیں تو میں 90 فیصد گارنٹی دیتا ہوں کہ حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ’’ ہم کوئی بھی کارروائی نہ کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ انسداد دہشت گردی میری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’مذاکرات کی کھڑکی ہمشہ کھلی رکھنی چاہیے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں سے مذاکرات ملک کے آئین اور قانون کے مطابق ہونے چاہیں اور اس مجوزہ بات چیت کے عمل میں بالادستی حاصل کرنے کے لیے حکومت کو میدان جنگ میں عسکریت پسندوں پر واضح برتری بھی حاصل کرنا ہوگی۔

اجلاس میں شریک وفاقی وزیر برائے سرحدی امور عبدالقادر بلوچ کہتے ہیں کہ صرف طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں۔

’’میں آپ کو بتا دوں کہ آخری فیصلہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے۔ آخری فیصلے کے لیے بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ کاغذ سامنے کرنے کی ضرورت ہے۔ دستخط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

شدت پسندوں کے حال ہی میں جان لیوا حملوں کے بعد حکومت کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کی غرض سے جمعے کو سیاسی قائدین کا اجلاس بلایا گیا تھا۔

تاہم وزیر اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بیرون ملک دورے کی وجہ سے اسے غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG