رسائی کے لنکس

حکومتی سرد مہری کے بعد پاکستانی طالبان کی مذاکرات کی نئی پیش کش


حکیم اللہ محسود (فائل فوٹو)

حکیم اللہ محسود (فائل فوٹو)

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے اور شدت پسندوں کے خلاف قوت کے استعمال کو ہمیشہ آخری حربے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے قائدین میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمان اور منور حسن اگر ضمانت دیں تو حکومت سے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔

مقامی نجی ٹی وی چینلز کو اتوار کو جاری کی جانے والی اپنی ایک ویڈیو میں کالعدم تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے مطالبہ کیا کہ حکومتی تحویل میں مولوی عمر، مسلم خان سمیت کچھ دیگر کمانڈروں کو بھی رہا کیا جائے تاکہ وہ بھی ان مذاکرات میں شرکت کرسکیں۔

طالبان کی جانب سے مذاکرات کی یہ نئی پیش کش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومتی اتحاد میں شامل جماعت عوامی نیشنل پارٹی ملک میں جاری دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کی غرض سے ایک کل جماعتی کانفرنس کے عنقریب انعقاد کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مختلف جماعتوں سے رابطے بھی کر رہے ہیں۔

گزشتہ دو روز میں ملک کے شمال مغرب میں مسجد اور سکیورٹی پوسٹ پر حملوں میں طالبان نے 13 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 52 افراد کو ہلاک کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء راجا ظفر الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں طالبان سے بات چیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔

’’ہر لڑائی، جنگ کا فیصلہ بات چیت سے ہوتا ہے۔ اس لیے مذاکرات ہونے چاہیئں مگر ان کے آغاز میں کوئی شرطیں نہیں ہونی چاہیں۔‘‘
گزشتہ دسمبر میں پشاور شہر میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے سینئیر وزیر بشیر احمد بلور کی ایک خود کش بم حملے میں ہلاکت کے بعد بھی طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ایسی ہی مشروط پیش کش کی تھی۔

انہوں نے ملک میں موجودہ جمہوری نظام کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم پاکستانی طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے کہا تھا کہ ان کے جنگجو مذاکرات کے دوران ہتھیار نہیں پھینکیں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کے ذریعے طالبان شدت پسندی کا رستہ ترک کر دیں تو ان سے بات چیت شروع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نکتے پر یکجا ہونا ہوگا۔

’’اگر مذاکرات کرنے ہیں تو کس طریقے سے کریں۔ اگر مذاکرات سے کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو پھر کیا کریں۔ ان چیزوں کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اب ملک کی بقاء اس میں ہے کہ ہم متحد ہوں اور مل جل کر ان کا مقابلہ کریں۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے اور شدت پسندوں کے خلاف قوت کے استعمال کو ہمیشہ آخری حربے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش ماضی کی طرح وقت حاصل کرنے کا ایک حربہ بھی ہو سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG