رسائی کے لنکس

عمران کا طالبان کمیٹی، فضل الرحمٰن کا مذاکراتی عمل سے الگ رہنے کا فیصلہ


پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان (فائل فوٹو)

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان (فائل فوٹو)

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت شدت پسندوں کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات کی بھر پور حمایت کرتی ہے تاہم عمران خان کی طالبان ٹیم میں شرکت ان کے اپنے سیاسی فلسفے سے متضاد ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پیر کو اپنی جماعت کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد کہا کہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹی کا حصہ نہیں بن سکتے۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی مجوزہ بات چیت کے عمل سے الگ رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن سے متعلق قبائلی جرگہ پر قومی اتفاق رائے کے باوجود حکومت نے اسے نظر انداز کیا ہے۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت شدت پسندوں کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات کی بھر پور حمایت کرتی ہے۔ تاہم عمران خان کی طالبان ٹیم میں شرکت ان کے اپنے سیاسی فلسفے سے متضاد ہو گا۔

’’خان صاحب کا اپنا سیاسی وجود ہے، ان کی اپنی سیاسی جماعت اور فلسفہ ہے۔ وہ تحریک طالبان کی کمیٹی کا حصہ نہیں بن سکتے اور نا اس کا حصہ ہیں۔ ہم نے حکومت کی چار رکنی کمیٹی کی تائید کی ہے اور اس میں ہمارے نمائندے رستم شاہ مہمند ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ مذاکرات کا کچھ ’’ٹائم فریم‘‘ ہونا چاہیئے۔ ’’یہ نہیں کہ نشت در نشت ہوتی رہیں۔ لوگ نتائج چاہتے ہیں۔‘‘

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت کو مجوزہ مذاکرات سے پہلے امریکہ کی طرف سے ڈرون حملے نا کرنے کی بھی یقین دہانی حاصل کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل سبوتاژ نا ہو سکے۔

تاہم حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمٰن بظاہر مجوزہ مذاکرات کی کامیابی سے متعلق پر امید دکھائی نہیں دیتے۔

’’خدا کرے کہ (مذاکرات کامیاب) ہوجائیں۔ میں اتنی زیادہ امید بھی نہیں دلا سکتا لوگوں کو، باقی امید پر دنیا قائم ہے۔‘‘

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی طالبان کی طرف سے نامزدکردہ کمیٹی کے اختیارات کے بارے میں وضاحت طلب کر چکے ہیں۔

تحریک طالبان نے جمعیت کے رکن مفتی کفایت اللہ اور عمران خان کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جماعتِ اسلامی کے سابق سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم اور اسلام آباد کی لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے نام اپنی مذاکراتی ٹیم کے لیے تجویز کیے تھے۔

ادھر اس طالبان کی نامزد کمیٹی کے بقیہ تین اراکین نے اسلام آباد میں پیر کو ایک اجلاس میں فیصلہ کیا کہ وہ عمران خان اور جمعیت کے نمائندے کی کمیٹی میں عدم شرکت کے باوجود مجوزہ مذاکراتی عمل شروع کریں گے اور اس سلسلے میں مولانا سمیع الحق نے حکومت کی تشکیل کردہ ٹیم سے رابطہ بھی کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ ان کی کمیٹی با اختیار ہے اور طالبان نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ بات چیت کے لیے ’’سنجیدہ‘‘ ہیں تاہم شدت پسندوں کی بات پر اعتبار کرنے کی بنیاد پر ان کا کہنا تھا۔

’’ہم اگر یقین نہیں کریں گے تو کیا کر سکتے ہیں؟ ہم تو امن لانے کے لیے جو کوشش ہم سے ہو سکے کریں گے۔‘‘

شدت پسندوں کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا کہ مذاکراتی ٹیم کی ’’مکمل رہنمائی اور نگرانی‘‘ طالبان کی سیاسی شوریٰ کرے گی اور طالبان ’’اپنے عملداری والے علاقوں میں مذاکراتی وفود کو مکمل تحفظ اور سکیورٹی فراہم کریں گے‘‘۔

منگل کو دونوں مذاکراتی ٹیموں کی ملاقات متوقع ہے۔

ادھر سرکاری ٹیم کے سربراہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے قومی امور عرفان صدیقی نے صدر مملکت ممنون حسین سے ملاقات کی جس میں ایک سرکاری بیان کے مطابق صدر نے امید کا اظہار کیا کہ شدت پسندوں سے مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیرپا امن کے قیام کے لیے پاکستانی عوام اس بات چیت کے عمل کی کامیابی کے منتظر ہیں۔
XS
SM
MD
LG