رسائی کے لنکس

طالبان شوریٰ اور مذاکراتی نمائندے کی مشاورت جاری


Pakistan taliban

Pakistan taliban

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شوریٰ اور جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم کے درمیان اسلام آباد میں سرکاری مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر تفصیلی بحث ہوئی اور عسکریت پسندوں کی طرف سے حکومت کے لیے چند مطالبات سے سابق سینیٹر کو آگاہ کیا گیا۔

حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کے رکن اور سابق سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم نے شمالی وزیرستان میں نامعلوم مقام پر شدت پسنوں کی سیاسی شوریٰ سے ملاقات کی اور نواز شریف انتظامیہ کے مطالبات پیش کیے گئے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شوریٰ اور جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم کے درمیان اسلام آباد میں سرکاری مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر تفصیلی بحث ہوئی اور عسکریت پسندوں کی طرف سے حکومت کے لیے چند مطالبات سے سابق سینیٹر کو آگاہ کیا گیا۔

تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں بلکہ مقامی میڈیا میں آنے والی تفصیلات کو انھوں نے قیاس آرائیاں قرار دیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں ہونے والا مشاورتی عمل ابھی جاری ہے اور پروفیسر ابراہیم کے قیام میں پیر تک توسیع بھی ہوسکتی ہے۔

پروفیسر ابراہیم اور یوسف شاہ

پروفیسر ابراہیم اور یوسف شاہ

جماعت اسلامی کے رہنما کے ساتھ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے داماد سید محمد یوسف شاہ بھی ہفتہ کو ایک سرکاری ہیلی کاپٹر میں افغان سرحد سے محلقہ القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کے گڑھ شمالی وزیرستان روانہ ہوئے تھے۔

جمعرات کو مذاکراتی ٹیموں کی ملاقات کے فوراً بعد طالبان کی مقرر کردہ کمیٹی کے ایک رکن مولانا عبدالعزیز نے نفاذ شریعت کو مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نا کرنے پر اس عمل سے علیحدگی کا اعلان کردیا جس پر بات چیت کی کامیابی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا۔

تاہم مولانا سمیع الحق کے ترجمان سید احمد شاہ حقانی نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لال مسجد کے سابق خطیب طالبان کمیٹی کا حصہ ہیں اور ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے نکات کوئی اتنے بڑے نہیں۔

’’یہ آئین تو پاکستان ہی کا ہے اور اس کے بنانے میں مولانا سمیع الحق کے والد، مولانا شاہ احمد نورانی اور مفتی محمود صاحب نے پورا کردار ادا کیا ہے۔ اس میں حدود، شریعت کے امور شامل کیے ہیں کوئی آئین خدا ناخواستہ اسلام کے منافی نہیں ہے۔ طالبان، مولانا سمیع الحق یا مولانا عبدالعزیز کا مطالبہ ایک ہی ہے مگر اس کے طریقہ کار میں کچھ اختلاف ہو سکتا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ اختلاف بات چیت کے عمل میں رکاوٹ نہیں پیدا کرسکتے بلکہ ان کے بقول گفتگو کے ذریعے دور ہوسکتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے جمعرات کو مطالبات میں تشدد کی کارروائیاں روکنے کے علاوہ کہا گیا کہ مجوزہ مذاکرات پاکستانی آئین کے تحت اور اس کا دائرہ کار صرف شورش زدہ علاقوں کے معاملات سے ہوگا۔

نواز انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بات چیت کا یہ عمل طویل نہیں بلکہ مختصر ہونا چاہیئے۔

پاکستانی حکومت کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کے بعد صوبہ خیبرپختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں متعدد ہلاکت خیز حملے دیکھنے میں آئے۔ تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا۔

طالبان کی نامزدہ کردہ کمیٹی نے سرکاری مذاکراتی ٹیم کے اختیارات کے بارے میں وضاحت طلب کی اور وزیراعظم کے علاوہ پاکستان بری فوج اور افواج پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہان سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا۔

سابق وزیراعظم اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت طالبان سے صرف آئین کے تحت ہونے والی بات چیت کی حمایت کرے گی۔
XS
SM
MD
LG