رسائی کے لنکس

حملوں میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی پر طالبان کو اعتراض نہیں


پروفیسر محمد ابراہیم (فائل فوٹو)

پروفیسر محمد ابراہیم (فائل فوٹو)

جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے ان کے بقول مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والوں کے خلاف خود سے کارروائی کرنے کی حامی نہیں بھری۔

پاکستانی طالبان شدت پسندوں نے اپنے نامزد کردہ مذاکرات کاروں کو کہا ہے کہ نواز شریف انتظامیہ کی طرف سے ملک میں حالیہ تشدد کے واقعات میں ملوث گرہوں کے خلاف کارروائیوں کی صورت میں وہ ان عسکریت پسندوں کا دفاع نہیں کریں گے۔

پروفیسر محمد ابراہیم نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ یقین دہانی طالبان کی سیاسی شوریٰ کے اراکین نے وزیرستان میں ان سے حالیہ ملاقات کے دوران کروائی۔

’’طالبان نے کہا ہے کہ احرارالہند کا نام انہوں نے بھی پہلے نہیں سنا اور وہ تحقیقات کررہے ہیں اور جہاں بھی حکومت ان پر ہاتھ ڈالے گی تو ہماری طرف سے کوئی دفاع نہیں ہوگا اور ان کی طرف سے ہم (طالبان) مکمل ہاتھ اٹھالیں گے۔‘‘

تاہم جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے ان کے بقول مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والوں کے خلاف خود سے کارروائی کرنے کی حامی نہیں بھری۔ ان کا کہنا تھا اس وقت طالبان ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر مسلح افراد کے مہلک حملے کے بعد حکومت میں شامل سینئیر عہدیداروں نے طالبان عسکریت پسندوں سے مطالبہ کیا تھا کہ اس واقعے سے لاتعلقی کے اعلان سمیت اس میں ملوث افراد یا گروہ کی نشاندہی بھی کریں۔

حکومت کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف محدود فضائی کارروائیاں روکنے کے اعلان کے وقت کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کے حملے کی صورت میں فوج و حکومت جوابی کارروائی کا حق رکھتی ہے۔

طالبان کے نامزد کردہ مذاکرات کار نے بتایا کہ سرکاری نمائندوں سے بات چیت کے لئے ’پیس زون‘ مختص کرنے کے مطالبے کو شدت پسندوں نے واپس لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نا بھی ہوا تو طالبان مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

طالبان کا مطالبہ تھا کہ مذاکرات کے لیے ایک ایسا علاقہ مختص کیا جائے جہاں فوج کا عمل دخل نا ہو اور انہیں نقل و حرکت میں آزادی ہو۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تشدد کے واقعات میں ملوث عسکریت پسندوں سے لاتعلقی اور ان کے بارے میں معلومات نا ہونے کے بیانات طالبان کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

دفاعی امور کے ماہر اور قبائلی علاقوں کے سابق سیکرٹری محمود شاہ کہتے ہیں۔

’’یہاں پشاور میں مفتی حسن اور کوئی اور دو (گروہ) تھے جو دھماکے کررہے تھے۔ اسے انہوں (طالبان) نے وارننگ دی تھی کہ اگر کیا تو سیدھا کر دیں گے۔ اگر وہ یہ کر سکتے ہیں تو میرے خیال میں احرارالہند کے ساتھ بھی کرسکتے ہیں۔ میرے خیال میں طالبان کا منصوبہ ہے کہ 2014ء میں حکومت کے ساتھ بات چیت سے وقت گزارا جائے۔ ایک ماہ رمضان اور دو ماہ مون سون کے تو پیچھے کتنا وقت آپریشن کے لیے رہ گیا۔‘‘

طالبان کے نامزد کردہ مذاکرات کار مولانا سمیع الحق نے ہفتہ کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہیں اپنے ساتھیوں کی طالبان شوریٰ سے ملاقات کے بارے میں بریف کیا۔

حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کی ناکامی پر شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG