رسائی کے لنکس

فوجی کارروائیوں کے بعد مذاکرات بحال کرنے کی مزید کوششیں


مولانا سمیع الحق، عرفاق صدیقی (فائل فوٹو)

مولانا سمیع الحق، عرفاق صدیقی (فائل فوٹو)

حکومت کی طرف سے غیر مشروط فائر بندی پر طالبان کے نامزد کردہ مذاکرات کار محمد یوسف شاہ کا کہنا تھا کہ طالبان اس پر آمادہ نہیں۔

پاکستان کے شمال مغرب میں شدت پسندوں کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد طالبان کے نامزد کردہ مذاکرات کار مولانا سمیع الحق نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ایک بار پھر رابطہ کیا ہے۔

تاہم مولانا کے ساتھی محمد یوسف شاہ کے بقول کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ شدت پسند فوجی کارروائیوں کے باوجود اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

حکومت کی طرف سے غیر مشروط فائر بندی پر ان کا کہنا تھا کہ طالبان اس پر آمادہ نہیں۔

’’یہ شرط تو حکومت یا طالبان کا مسئلہ نہیں یہ تو ان کمیٹیوں کا ہے۔ وہ اس کا جائزہ لے لیں نا۔ کمیٹیاں کس مرض کی دوا ہیں۔ ہمارا تو خیال ہے کہ ماضی کے تلخ تجربوں سے سبق حاصل کرلیا ہوگا اور حکومت آپریشن کے لیے نہیں جائے گی۔‘‘

گزشتہ اتوار کو قبائلی علاقے مہمند میں تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر کی طرف سے 23 سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرنے کے دعوے کے بعد سرکاری مذاکراتی ٹیم نے بات چیت کا عمل معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ شدت پسندوں کی طرف سے غیر مشروط فائر بندی کے اعلان کے بغیر اس عمل کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

حکومت میں شامل اعلیٰ عہدیداروں کے یہ بیانات بھی سامنے آئے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

جبکہ طالبان کے مرکزی ترجمان نے صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو میں پاکستانی آئین کو تسلیم کرنے اور اس کے تحت مذاکرات کرنے کے مطالبے کو مسترد کردیا۔ یوسف شاہ کا اس بارے میں کہنا تھا۔

’’آئین کے اندر شریعت ہی لکھا ہے نا لیکن ہمارے حکمران بظاہر اس سے انحراف کررہے ہیں۔ جمیعت علماء اسلام (س) کے منشور میں لکھا ہے خدا کی زمین پر خدا کا نظام اور یہ کیا ہے یہ شریعت ہے۔‘‘

ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے نام طاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا کہ شمال مغرب میں چند مزید محدود کامیاب کارروائیوں کے بعد سرکاری اور طالبان کی مقرر کردہ مذاکراتی کمیٹیوں میں رابطہ بحال ہونے کے امکانات ہیں۔

تاہم سرکاری کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسفزئی کا اس بارے میں کہنا تھا کہ کسی متوقع اجلاس کے بارے میں انہیں آگاہی نہیں۔

’’کوئی ایسی پلاننگ کے بارے میں ہمیں بتایا نہیں گیا۔ ابھی تو جو ہم نے باتیں کہیں تھی وہ ہی ہوں گی: پہلے وہ فائر بندی کریں اور جو واقعہ ہوا ہے اس کی وضاحت ہو جائے۔‘‘

ادھر صوبہ خیبرپختوانخواہ کے حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی طرف سے حکومت سے مذاکرات میں تعطل ختم کرنے کے مطالبے میں شدت دیکھی جارہی ہے۔

جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف دونوں مذاکراتی ٹیموں کا مشترکہ اجلاس بلاکر ان کے نکتہ نظر کو سنیں۔ جماعت اسلامی کے سینئیر رہنما پروفیسر محمد ابراہیم بھی شدت پسندوں کی مقرر کردہ ٹیم میں شامل ہیں۔

سرکاری ٹیم میں پاکستان تحریک انصاف کے نمائندے رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ جو مہمند ایجنسی اور کراچی کے واقعات ہوئے ان کا جواب دیا جا چکا ہے۔ اب حکومت کے لیے موقع ہے کہ وہ مذاکرات کی طرف واپس لوٹ جائیں۔‘‘

کراچی میں رواں ماہ پولیس وین پر طالبان کے حملے میں 13 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
نواز انتظامیہ یہ کہتی آئی ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے کی خواہاں ہے۔

تاہم شدت پسندی کے حالیہ واقعات نے مذاکرتی عمل پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق عسکریت پسند بات چیت کو اپنے آپ کو منظم کرنے اور اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG