رسائی کے لنکس

ایف سی اہلکاروں کے ’قتل‘ پر امن مذاکرات تعطل کا شکار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایک سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے طالبان کے الزامات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دے کر مسترد کیا ہے کہ فورسز کی تحویل میں شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

پاکستانی طالبان کی طرف سے 23 سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کے دعوے کے بعد شدت پسندوں سے مذکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے قومی امور اور سرکاری مذاکرتی ٹیم کے رابطہ کار عرفان صدیقی کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ایسے پے در پے واقعات سے مذاکراتی عمل پر ان کے بقول انتہائی منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔

’’تعطل یقیناً مذاکراتی عمل کے لیے نقصان دہ ہے لیکن جو واقعہ اس کا سبب بنا ہے وہ مذاکراتی عمل کے لیے سب سے زیادہ مضر ہے، نقصان دہ ہے۔ جو اس کے مضمرات تھے یا نتائج نکلنا تھے (ان میں نا ملنا) تو کم از کم نتیجہ تھا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ان کی کمیٹی نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ طالبان کی نامزدہ کردہ کمیٹی سے پیر کو ہونے والی ملاقات کو منسوخ کر دیا جائے۔

’’جب فضا سوگوار ہے اور سب کو دکھ ہے تو ہم اکوڑہ خٹک ان کے گھر جا کر کیا بات کریں؟ ہمارے پاس تو کچھ نہیں۔‘‘

سرکاری اور طالبان کی تشکیل کردہ مذاکراتی کمیٹیوں نے پیر کو ملنا تھا جس میں توقع کی جارہی تھی کہ حکومت کے فائر بندی کے مطالبے پر طالبان شوریٰ کے فیصلے سے سرکاری ٹیم کو آگاہ کیا جائے گا۔

تاہم اتوار کو رات گئے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان کے ایک کمانڈر عمر خراسانی نے شدت پسندوں کی ایک ویب سائٹ پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ سکیورٹی اداروں کی تحویل میں موجود شدت پسندوں کے مبینہ قتل پر اس کے جنگجوؤں نے انتقاماً 23 ایف سی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان اہلکاروں کو طالبان نے 2010ء میں یرغمال بنایا تھا۔

شدت پسند کمانڈر خراسانی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت ایک طرف تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے ’’تو دوسری طرف ہمارے قیدی ساتھیوں کو مسلسل جیلوں سے نکال کر (مار) رہی ہے‘‘۔

تاہم ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے طالبان کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پولیس اہلکاروں کی بس پر حملہ اور اب شدت پسندوں کی حراست میں ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت اشتعال انگیز عمل ہے۔

شدت پسندوں کی مہلک کارروائیوں کے تناظر میں مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کرنے کے لیے عرفان صدیقی کے مطابق سرکاری مذاکراتی کمیٹی کا ’’ہنگامی‘‘ اجلاس منگل کو طلب کر لیا گیا ہے۔

مذاکرات ’’نتیجہ خیز ہونے سے پہلے کا عمل یہ ہے کہ کیا یہ جاری رہ سکتے ہیں اور اگر جاری رہ سکتے ہیں تو پھر ہم یقیناً سوچیں گے کہ آیا ان کا کوئی فائدہ ہے، کوئی ثمر ہے یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے شدت پسندوں کو اپنی کارروائیاں روکنے کے ’’واضح‘‘ مطالبے کے باوجود سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے سے متعلق ’’بہت بڑے سوال‘‘ کو جنم دیا ہے۔

طالبان نے جمعہ کو کراچی میں پولیس وین پر حملے میں 13 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید ایسی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

ادھر طالبان کی مقرر کردہ مذاکرات کاروں کا خیبرپختونخواہ کے شہر اکوڑہ خٹک میں ایک اجلاس ہوا جس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ سرکاری ٹیم نے انہیں طالبان قرار دے کر ملاقات سے انکار کیا۔

طالبان کی نامزد کردہ مذاکرت کار اور جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا۔

’’میں نے پہلے عرض کی ہے کہ براہ کرم ہماری اس حیثیت کو بحال رہنے دیا جائے۔ ہمیں کسی جانب نا دھکیلیے، فریق نا بننے دی جیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں امن قائم ہو۔ اگر ہم فریق بن گئے تو امن کا عمل بہت دور چلا جائے گا۔‘‘

ایک اور مذاکرات کار نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تو اس کے ’’سنگین نتائج‘‘ ہوں گے۔

شدت پسند کمانڈر خراسانی نے اپنے بیان میں بتایا کہ مہمند میں موجود جنگجنو رہنماؤں کا بھی ایک علیحدہ سے اجلاس ہورہا ہے جس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے یا نا ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG