رسائی کے لنکس

تعطل کے شکار مذاکراتی عمل کی بحالی کی کوششیں


حکومت اور طالبان کی نامزد کردہ کمیٹیوں کے اراکین (فائل فوٹو)

حکومت اور طالبان کی نامزد کردہ کمیٹیوں کے اراکین (فائل فوٹو)

چند مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بھی فائر بندی کی شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بھی ان کے عسکریت پسندوں کے خلاف شہروں اور قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں روکے۔

پاکستان میں طالبان کے ہاتھوں 23 سیکورٹی اہلکاروں کے ’’قتل‘‘ کے بعد تعطل کے شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں اعلیٰ حکومتی عہدیدار اور مذاکراتی ٹیموں کے غیر رسمی رابطے ہوئے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نامزد کردہ مذاکرات کار محمد یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ ان کی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ’’تفصیلی گفتگو‘‘ ہوئی ہے جس میں ان کے بقول وفاقی وزیر نے مذاکراتی عمل کے دوبارہ شروع ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

صحافیوں سے بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرکاری مذاکراتی ٹیم کے چند اراکین نے بھی ان سے رابطہ کیا جبکہ ان کی اپنی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق بھی شدت پسندوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

’’ان (حکومت) کے جو مطالبات ہیں یا جو باتیں ہیں وہ جب ہم بیٹھیں گے تو حل ہوں گے نا۔ شاہی فرامین سے تو حل نہیں ہوتے۔ اگر شاہی فرامین سے حل ہوتے تو پھر کمیٹیوں کا کیا فائدہ، پھر مذاکرات کا کیا فائدہ، آپس میں بیٹھنے کا کیا فائدہ ۔‘‘

سرکاری مذاکراتی ٹیم نے بیان دیا کہ شدت پسندوں کی تشدد کی کارروائیوں کے خاتمے اور فائر بندی کے موثر نفاذ کے اعلان کے بغیر وہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے سے قاصر ہے۔

چند مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بھی فائر بندی کی شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بھی ان کے عسکریت پسندوں کے خلاف شہروں اور قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں روکے۔

ادھر بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کے اجلاس میں وزارت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے قانون سازوں کو بتایا کہ ملک کے چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد میں بھی طالبان، القاعدہ اور لشکر جھنگوی کی کارروائیوں کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کالعدم تنظیموں نے ملک بھر میں اپنے نیٹ ورک قائم کررکھے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی قانون ساز تہمینہ دولتانہ نے اس صورتحال کو گھمبیر قرار دیا۔

’’کیرٹ اینڈ اسٹک کبھی رکتا نہیں۔ سیاستدانوں کا کام بات کرنا ہے۔ ہم بات بھی کریں گے، سمجھائیں گے بھی اور جہاں ضرورت پڑی تو دوسرا طریقہ بھی استعمال کریں گے۔ صرف ایک ہی طریقے سے کام سیاست میں نہیں چلتا۔‘‘

پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان کہتے ہیں کہ اس صورتحال کی وجہ ان کے بقول مبہم حکومتی پالیسی اور دہشت گردی کے مسئلے اور اس کے حل کے طریقہ کار پر سیاسی جماعتوں میں اختلاف ہے۔

’’آپریشن یا ڈائیلاگ تب ممکن ہوگا جب آپ افغانستان کے ساتھ بیٹھ جائیں کیونکہ جب افغانستان میں آگ بھڑکی تو ہم نے بڑی بغلیں بجائیں اور ہم نے کہا جہاد کے لیے امریکہ آیا ہوا ہے۔ آج وہ ناسور ہمارے خطے میں پھیل گیا۔ اب اگر ہم مل کربیٹھیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں تو کسی حد تک ہم اس پر قابو پا لیں گے۔‘‘

پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے سیکورٹی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں عسکریت پسند پاکستان یا افغانستان کے سرحدی علاقوں میں اپنی پناہ گاہوں میں چھپ جاتے ہیں جس سے ایسی کارروائیاں زیادہ سود مند ثابت نہیں ہوتیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں شدت پسندی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے بارڈر کنٹرول یا سرحد پر نگرانی کے نظام کو موثر بنانا بھی ضروری ہے۔
XS
SM
MD
LG