رسائی کے لنکس

پاکستان مذاکرات کے حامی طالبان کی فہرست دے گا: افغان حکام


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ان طالبان کی مالی معاونت ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو کوئٹہ اور پشاور سمیت پاکستانی شہروں میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے افغان عسکریت پسندوں کو دوبارہ افغانستان میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

افغان حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل سے متعلق ہونے والے چار فریقی اجلاس میں ان طالبان کی ایک فہرست پیش کرے گا جو کابل کے ساتھ بات چیت پر تیار ہیں۔

افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کے نمائدنے پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کررہے ہیں جس میں افغان امن عمل کے متعلق ایک لائحہ عمل پر بات چیت ہو گی۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے نائب ترجمان فیصل جاوید کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے پیش کی جانی والی فہرست میں ان طالبان کا ذکر ہوگا جو کابل سے بات چیت پر تیار ہیں اور ان کا بھی جو بات چیت نہیں چاہتے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ان طالبان کی مالی معاونت ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو کوئٹہ اور پشاور سمیت پاکستانی شہروں میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے افغان عسکریت پسندوں کو دوبارہ افغانستان میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کے بقول ان باتوں پر اتفاق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے گزشتہ ماہ دورہ کابل کے دوران ہونے والی ملاقاتوں میں ہوا۔

پاکستانی عہیدیداروں کی طرف سے افغان عہدیدار کے اس دعویٰ پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن اسلام آباد کا موقف رہا ہے کہ وہ افغانوں کی زیر قیادت اور ان کی شمولیت سے جنگ سے تباہ حال اس ملک میں امن و مصالحت کی کوششوں کی حمایت اور تعاون جاری رکھے گا۔

گزشتہ سال جولائی میں پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے مابین پہلی براہ راست ملاقات کی میزبانی بھی کی تھی لیکن یہ سلسلہ طالبان کے رہنما ملا عمر کی موت کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا۔

اس مذاکراتی عمل کے تعطل میں مزید طوالت اس وقت آئی جب طالبان کی طرف سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں تشدد پر مبنی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا اور ان کے آپسی اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔

لیکن گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والی "ہارٹ آف ایشیا" کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس عمل کو بحال کرنے کے لیے کوششوں کو تیز کیا جائے۔

پیر کو ہونے والا چار ملکی اجلاس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

XS
SM
MD
LG