رسائی کے لنکس

سرکاری مذاکراتی ٹیم کے طالبان نمائندوں کے اختیارات پر سوالات


طالبان کی نمائندہ مذاکرات کار مولانا سمیع الحق اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں

طالبان کی نمائندہ مذاکرات کار مولانا سمیع الحق اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی امور اور سرکاری ٹیم کے رابطہ کار عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’ہماری کمیٹی کی قیادت وزیراعظم کررہے ہیں۔ انہوں نے پہلی ملاقات میں ہمارے سوالات کے جواب دیے، وضاحتیں دیں۔ ہمیں اختیار، مینڈیٹ دیا۔ مگر یہ صورتحال دوسری طرف نہیں۔‘‘

حکومت کی تشکیل کردہ مذاکراتی ٹیم نے منگل کو شدت پسندوں کی طرف سے نامزد کردہ مذہبی شخصیات سے ملاقات سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اختیارات کے بارے میں اب بھی ابہام پایا جاتا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی امور اور سرکاری ٹیم کے رابطہ کار عرفان صدیقی کا ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ملک میں تشدد کے خاتمے کے لیے حکومت با معنی بات چیت چاہتی ہے لیکن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے نمائندے کی طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں شرکت سے انکار کے بعد اس ٹیم کے’’قد کاٹھ‘‘ میں کمی ہوئی ہے۔

’’ہماری کمیٹی کی قیادت وزیراعظم کررہے ہیں۔ انہوں نے پہلی ملاقات میں ہمارے سوالات کے جواب دیے، وضاحتیں دیں۔ ہمیں اختیار، مینڈیٹ دیا۔ مگر یہ صورتحال دوسری طرف نہیں۔ یہ بھی پوچھا کہ طالبان کی نو رکنی دوسری کمیٹی کا آپ کے ساتھ کوئی جوڑ ہے؟ کس سے رہنمائی لے رہے ہیں؟ کیا مینڈیٹ ہے فیصلہ کرنے یا اس پر عملدرامد کروانے کا؟‘‘

طالبان کے ترجمان کے ایک بیان کے مطابق ان کی ایک سیاسی شوریٰ تین رکنی مذاکراتی ٹیم کی ’’رہنمائی اور نگرانی‘‘ کرے گی۔

عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی کمیٹی پر سوالات کی بنیاد نیک نیتی پر ہے تاکہ مستقبل میں مذاکراتی عمل میں دشواریاں پیدا نا ہوں۔

لیکن طالبان کی مقرر کردہ ٹیم کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’’طالبان کہتے ہیں کہ تمہیں اس سے کیا ہے کہ کتنے آدمی ہونے چاہیے۔ نامعقول ایک بھاگنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان (سرکاری مذاکراتی ٹیم) سے زیادہ بااختیار ہیں۔ وہ تو وزیراعظم ہاؤس سے بغیر اجازت کے باہر نہیں آسکتے۔‘‘

تاہم شام گئے حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے اجلاس کے بعد سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان کی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق ابہام دور ہوگیا اور وہ ملنے کو تیار ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی طرف سے نا تو کوئی مطالبات سامنے آئے ہیں اور نا ہی اسلام آباد نے کوئی پیشگی شرائط عائد کی ہیں۔

تاہم مجوزہ مذاکرات میں شدت پسندوں کے نمائندے اور اسلام آباد کی لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھیوں کی رہائی اور ملک میں اسلامی شرعی نظام کا نفاذ بنیادی مطالبات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کے آغاز میں تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

’’اس مسئلے کو الجھانا نہیں چاہیے۔ یہ بہت حساس مسئلہ ہے۔ اگر اب جنگ شروع ہوئی تو بہت سخت جنگ ہوگی۔ افغانستان سے طالبان نے اس طرف رخ کرلیا اور امریکہ اور پوری دنیا کی طاقتیں ان کا کچھ نا کر پائیں تو پاکستانی فوج کیا کر پائے گی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ امن کے لیے طالبان کی شریعت کے نفاذ کے مطالبے سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔

’’ہمارے یہاں کہا تو گیا کہ قران و سنت سپریم لاء ہوگا مگر اس میں ابھی بھی بہت سا حصہ انگریز کے قانون کا چل رہا ہے۔ اس سی پر تو تنازعہ ہے۔‘‘

کم و بیش تمام حلقوں کی جانب سے شدت پسندوں سے مذاکرات شروع کرنے کی حمایت کی گئی تاہم ماضی کے تجربات کے تناظر میں جہاں سیاستدانوں اور ماہرین کی طرف سے اس کی کامیابی پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے وہیں بات چیت کے مکمل ہونے کا وقت مقرر کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG