رسائی کے لنکس

طالبان سے ملاقات کے بعد حکام کے صلاح مشورے


چودھری نثار

چودھری نثار

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ طالبان کی شرط صرف امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی علیحدگی ہی ہے۔

پاکستان کی سرکاری مذاکراتی ٹیم نے جمعرات کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی جس میں وزارت کے عہدیداروں کے مطابق گزشتہ روز طالبان شوریٰ سے ہونے والی بات چیت سے متعلق وزیر کو آگاہ کیا۔

تاہم ملاقات اور اس کی تفصیلات پر وزارت کی طرف سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ دوسری طرف سے طالبان کے نامزد مذاکرات کار بھی صرف فائر بندی میں توسیع پر امید کا اظہار کر رہے ہیں۔

خیبرپختونخواہ میں حکمران اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ طالبان کی شرط صرف امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی علیحدگی ہی ہے۔

’’پتہ چل گیا ہے کہ کون سے طالبان گروپ بات کرنا چاہتے ہیں اور کون سے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور ہمارے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ تو یہ کامیابی ہے کہ اگر ہم حملہ کردیتے تو ساروں نے اکٹھا ہو جانا تھا۔‘‘

ان کے بقول شدت پسند ’’بندوق کی نوک پر‘‘ شریعت نافذ نہیں کرنا چاہتے۔

تحریک انصاف کے ایک نمائندے رستم شاہ مہمند اس سرکاری مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں جس نے بدھ کو طالبان کی ایک شوریٰ کے اراکین سے ملک کے شمال مغربی حصے میں ملاقات کی۔

طالبان کے نامزد کردہ مذاکرات کار اس ملاقات کو حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم گردانتے ہیں۔

طالبان کی طرف سے حکومت کو 300 افراد کی ایک فہرست فراہم کی گئی تھی جو کہ ان کے بقول جنگجو نہیں اور سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں۔ تاہم حکومت اور فوج کی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی تھی کہ سکیورٹی اداروں کی قید میں بچے یا عورتیں ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادوں سمیت پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے تاہم ابھی تک نواز شریف انتظامیہ کی جانب سے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

حزب اختلاف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا جارہا۔

’’مجھے معلوم ہی نہیں کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ اگر مذاکرات ہو رہے ہیں اور اس کا جذبہ بھی اچھا ہے تو پھر (حکومت) ذمہ داری سے کرے وہ اگر ذمہ داری میں ناکام ہو تو پھر ہمارے پاس نا آئیں۔ پھر ہم انہیں بچانے کے لیے نہیں آئیں گے۔‘‘

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طالبان شدت پسندوں سے مذاکرات خلوص نیت سے کررہے ہیں اور ناکامی کی صورت میں طاقت کے استعمال سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG