رسائی کے لنکس

صدرزرداری ترکمانستان میں، ’’ٹیپی‘‘ گیس پائپ لائن کے سمجھوتے پر دستخط

  • حسن سید

صدر زرداری اپنے ترکمنی ہم منصب کے ہمراہ

صدر زرداری اپنے ترکمنی ہم منصب کے ہمراہ

ٹیپی کے تحت 1640 کلو میٹرطویل پائپ لائن بچھائی جائے گی جو افغانستان کے راستے پاکستان سے ہوتی ہوئی بھارت میں ختم ہو گی اور اس کے ذریعے سالانہ تینتیس ارب کیوبک میٹرگیس درآمد کی جا سکے گی

صدر آصف علی زرداری ، ان کے ترکمن ہم منصب محمدوف ، افغان صدر حامد کرزئی اور بھارت کے وزیر پٹرولیم نے ہفتے کو اشک آباد میں اربوں ڈالر لاگت کے ’’ ٹیپی‘‘ گیس پائپ لائن سمجھوتے پر دستخط کیے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر زرداری اور ترکمانستان کے صدر نے جمعے کو ایک ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ٹیپی منصوبے پر عمل در آمد سے پورے خطے کے عوام کو فائدہ ہوگا ، توانائی کی ضرورت پوری ہو گی اور علاقے میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے دور کا آغاز ہوگا۔

ترکمانستان ،افغانستان، پاکستان، بھارت کےدرمیان ٹیپی کا مجوزہ منصوبہ مختلف تکنیکی مالی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے تعطل کا شکار رہا ہے۔

اس سال ستمبر میں چاروں ملکوں کے وزراء نے اشک آباد میں اس منصوبے کے فریم ورک پر دستخط کیے تھے۔

پاکستان میں ان روایتی شکوک و شبہات کا بھی اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ کابل میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور عدم استحکام کے تناظر اس منصوبے پر عمل درآمد مستقبل قریب میں مشکل دکھائی دیتا ہے۔

جبکہ دفتر خارجہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں حالات مستقبل میں بہتر ہوں گے اور منصوبے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگی ۔

دنیا میں قدرتی گیس کے وسائل کے چوتھے بڑے ذخائر ترکمانستان میں ہیں ۔

پاکستانی مبصرین کی رائے میں ٹیپی گیس پائپ لائن جہاں توانائی کے بحران کا شکار پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اہم ہے وہیں یہ توانائی کے شعبے میں علاقائی تعاون کی ایک ’’راہ داری‘‘ بھی قائم کرے گی اور افغانستان کو اس کی مد میں جو پیسہ ملے گا وہ اس کی ترقی اور استحکام میں بہت مدد دے گا۔

لیکن ان کے مطابق اس کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے درکار سرمایہ کاری کریں۔

ٹیپی کے تحت 1640 کلو میٹرطویل پائپ لائن بچھائی جائے گی جو افغانستان کے راستے پاکستان سے ہوتی ہوئی بھارت میں ختم ہو گی اور اس کے ذریعے سالانہ تینتیس ارب کیوبک میٹرگیس درآمد کی جا سکے گی ۔

توانائی کے بحران کا شکار پاکستان امریکہ کی مخالفت کے باوجود ایران کے ساتھ ساڑھے سات ارب ڈالر کے گیس پائپ لائن معاہدے پر بھی دستخط کر چکا ہے۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک کی توانائی کی ضروریات اتنی زیادہ ہیں کہ محض ایک معاہدہ کر لینا ہی کافی نہیں بلکہ ٹیپی پر عمل در آمد بھی ناگزیر ہے۔

XS
SM
MD
LG