رسائی کے لنکس

بلوچستان: ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے واقعات میں چارافراد ہلاک

  • ستار کاکڑ

بلوچستان: ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے واقعات میں چارافراد ہلاک

بلوچستان: ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے واقعات میں چارافراد ہلاک

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ ضلع کوہلو میں بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر کام کرنے والے مزدورں کے ایک کیمپ پر پیر کو علی الصبح نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے تین افراد کو ہلاک کردیا اس واقعے میں تین مزدور زخمی بھی ہوئے۔

یہ واقعہ سوصید کے علاقے میں پیش آیا جہاں کے تحصیل دار محمد ایوب نے وائس آف امر یکہ کو بتایا کہ دہشت گردی کی اس کارروائی کے بعد حملہ آور قریبی پہاڑیوں کی جانب فرار ہو گئے۔

ہلاک ہونے والے تینو ں افراد کاتعلق بلوچستان کے ضلع ژوب سے بتایا گیا تھا اور لاشیں اُن کے آبائی علاقے میں بھیج دی گئی ہیں جب کہ زخمیوں کو کو ئٹہ منتقل کر دیا گیا ۔ کالعدم عسکری تنظیم بلوچ لبر یشن آرمی نے یہ حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تشدد کا دوسراواقعہ پیر کی صبح ضلع مستونگ میں پیش آیا جہاں ایک سرکاری اہلکار کو موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ مقتول عبدالکریم اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں ملازم تھے اور معمول کے مطابق پیدل دفتر جارہے تھے جب اُنھیں نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے مطابق بلوچستان میں رواں سال اب تک ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ دہشت گر دی کے واقعات میں 280 سے زائد افراد ہلاک اور لگ بھگ ساڑھے چھ سوزخمی ہو چکے ہیں ۔ ان میں بیشتر واقعات کی ذمہ داری اُن کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں نے قبول کی ہے جن پر حال ہی میں وفاقی حکومت نے پابندی عائد کرتے ہوئے اُنھیں کالعدم قراردے دیا تھا۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے زیادہ تر واقعات میں دوسرے صوبوں بالخصوص پنجاب سے آئے ہوئے آباد کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم پیر کو ہلاک کیے جانے والے چاروں افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے ۔

XS
SM
MD
LG