رسائی کے لنکس

محصولات کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت


حکومت نے اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس اور فلڈریلیف سرچارج کے نفاذ سے متعلق الگ الگ بل جمعہ کے روز پارلیمان میں پیش کیے تھے

حکومت نے اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس اور فلڈریلیف سرچارج کے نفاذ سے متعلق الگ الگ بل جمعہ کے روز پارلیمان میں پیش کیے تھے

وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے حل کے لیے حکومت محض بین الاقوامی برادری کی امداد پرانحصار کی بجائے اندرون ملک دستیاب وسائل سے استفادہ کرنا چاہتی ہے جس کے لیے اُن کے بقول محصولات کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ہفتے کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے حکومت کی طرف سے اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس اور فلڈریلیف سرچارج کے نفاذ کے بلوں کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر بابر اعوان نے ملک کے صاحب حیثیت افراد سے اپیل کی کہ وہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے رضاکارانہ طور پر حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو فی خاندان ایک لاکھ روپے دیا جائے گااور پہلی قسط کے طور پر 20ہزار روپے فراہم کیے گئے ہیں جب کہ باقی اسی ہزار روپے فی خاندان دینے کے لیے وسائل جمع کیے جارہے ہیں۔ وزرات خزانہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ 16لاکھ خاندانوں کو فی خاندان ایک لاکھ روپے ادائیگی کے لیے حکومت کو 160 ارب روپے درکار ہیں۔

حکومت نے اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس اور فلڈریلیف سرچارج کے نفاذ سے متعلق الگ الگ بل جمعہ کے روز پارلیمان میں پیش کیے تھے جن کی نہ صرف حزب اختلاف بلکہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں نے بھی مخالفت کی تھی ۔ وفاقی کابینہ نے رواں ہفتے اصلاحاتی جی ایس ٹی اور فلڈریلیف سرچارج نافذ کرنے کی منظوری دی تھی ۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکس اصلاحات کے تحت ایسے شعبے جو ٹیکس ادا نہیں کرتے اُنھیں اب ٹیکس نظام کے دائر کار میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے جب کہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ایک دفعہ کے لیے فلڈ ریلیف سرچارج بھی نافذ کیا جائے گا۔

امریکہ اورپاکستان کو امداد دینے والے دیگر ممالک کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے درکار اربوں ڈالر کی خطیر رقم کی فراہمی صرف بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری نہیں بلکہ پاکستان کو اندرونی وسائل سے یہ رقم جمع کرنی ہوگی۔

XS
SM
MD
LG