رسائی کے لنکس

خود انحصاری کے لیے ٹیکس ادا کریں


وزیر خزانہ حفیظ شیخ (فائل فوٹو)

وزیر خزانہ حفیظ شیخ (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ اراکین پارلیمان، اعلیٰ سرکاری عہدیداروں اور کاروباری برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قومی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے نا صرف خود ٹیکس ادا کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔

پارلیمنٹ میں جاری بجٹ بحث کو سمیٹے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے جمعہ قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی خود انحصاری کے لیے یہ ضروری ہے کہ ٹیکس وصولی کے دائرہ کار کو بڑھا یا جائے کیوں کہ اُن کے بقول بیرونی دنیا سے اُس وقت تک مدد کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتاجب تک کہ پاکستانی قوم خوداپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں صرف 15لاکھ افراد جو ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اُنھوں نے اس تعداد کو بڑھانے کے لیے سات لاکھ ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی جو صاحب حیثیت ہونے کے باوجود ابھی تک ٹیکس ادا نہیں کرتے ۔ حفیظ شیخ نے بتایا کہ ان (سات لاکھ افراد) میں سے 78ہزار افراد کو ٹیکس ادائیگی کے لیے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں جب کہ مذکورہ افراد میں سے ایک ہزار سے ٹیکس کی رقم وصول بھی کیا جاچکا ہے۔

پاکستان کو امداد دینے والے ممالک بشمول امریکہ اور عالمی مالیاتی ادارے بھی حکومت پاکستان سے کہتے رہے ہیں کہ اقتصادی بحالی کے لیے پاکستان کو صاحب حیثیت افراد کو ٹیکس وصولی کے نظام میں لانا چاہیئے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بجٹ پر سیر حاصل گفتگوکے بعد سینیٹ کی اقتصادی کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی ہیں اُن میں سے 20 کو بجٹ میں شامل کیا جارہا ہے جب کہ باقی تجاویز پربھی غور کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے مالی سال 2011-12ء کے وفاقی بجٹ میں عوام کو دستیاب وسائل میں سے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے ۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت اپنی آمد ن اور اخراجات میں توازن پید اکرنا چاہتی ہے اس کے لیے کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی جارہی ہے ۔

اُنھوں نے بتایا کہ ایوان کو بتایا کہ جولائی 2010ء میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے مکمل خاتمے میں ابھی وقت لگے گا ۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ سیلاب کے باعث پاکستان گذشتہ سال اپنی شرح نمو کا ہد ف مکمل نہیں کرسکا ۔ تاہم اُن کے بقول ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری آئی ہے جب کہ 25 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی گیارہ ارب ڈالر کی رقوم سے اقتصادی صورت حال پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG