رسائی کے لنکس

پاکستان تحریک انصاف سینیئر رکن وجیہہ الدین مستعفی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ارکان میں اختلافات کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات کی خبریں ایک عرصے سے گردش کرتی چلی آرہی ہیں اور اس کے مختلف ارکان کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

اتوار کو تحریک انصاف میں جماعتی انتخابات کی شکایت کے ٹربیونل کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد نے اپنا استعفیٰ جماعت کے سربراہ عمران خان کو پیش کر دیا لیکن اس کی وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں۔

گزشتہ اتوار کو عمران خان کے ایک قریبی ساتھی اور جماعت کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سیف اللہ نیازی بھی مبینہ طور پر ایک سینیئر رہنما جہانگیر ترین سے اختلافات کی بنا پر استعفیٰ دے چکے ہیں۔

وجیہہ الدین احمد جماعت کے انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی شکایات کی چھان بین کرنے والے پینل سے سربراہ تھے اور انھوں نے گزشتہ سال پی ٹی آئی کے بعض سینیئر رہنماؤں کو انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹس جاری کرنے میں مبینہ ضابطگیوں کی نشاندہی کی تھی۔

انھوں نے جماعت کے دیگر امور پر بھی کڑی تنقید کی تھی جس کے بعد ان کی بنیادی رکنیت کو معطل بھی کر دیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ارکان میں اختلافات کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔

"پارٹی کے اندر کارکن سے لے کر چیئرمین تک ہر کسی کا اپنا اپنا موقف ہوتا ہے پارٹی کو کس طرح ہم منظم کر سکتے ہیں، کس طرح آگے لے کر جا سکتے ہیں تو بات چیت ہوتی۔"

تحریک انصاف گو کہ 20 سال پہلے وجود میں آئی تھی لیکن اسے حقیقی معنوں میں مقبولیت 2013ء کے عام انتخابات سے قبل اس وقت حاصل ہوئی جب عمران خان میں تبدیلی لانے کا نعرہ لے کر سڑکوں پر نکلے اور خاص طور پر نوجوان طبقے کو متحرک کیا۔

عام انتخابات کے نتیجے میں یہ جماعت شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی جب کہ مرکز میں یہ حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔

عمران خان وزیراعظم نواز شریف کے سب سے بڑے ناقد تصور کیے جاتے ہیں جو حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) پر2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر دو سال تک سراپا احتجاج رہے جب کہ رواں سال کے اوائل سے انھوں نے حکومت پر بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے۔

تاہم حکومت تحریک انصاف کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG