رسائی کے لنکس

غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچینجز کے ذریعے مواصلاتی رابطے کی روک تھام


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ڈاکٹر سلیم اور پی ٹی اے کے دیگر حکام کے بقول صرف 25 روز میں اس نظام سے تقریباً سات کروڑ ڈالرز کی آمدن ہوئی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ٹیلی فون ایکسچینجز کے ذریعے مواصلاتی رابطے کی روک تھام کے لیے ’’موثر نگرانی‘‘ کے نظام ’’انٹرنیشنل کلیئرنگ ہاؤس‘‘ کے متعارف کرانے سے حکومت کو ایک ارب ڈالر سالانہ آمدن حاصل ہوگی۔

پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات کے حکام کہتے ہیں کہ بیرون ملک سے پاکستان ہونے والی کالز میں سے 40 فیصد وہ کالز ہیں جو غیر قانونی نیٹ ورک کے ذریعے ملک میں صارفین کو موصول ہوتی ہیں۔

اس غیر قانونی مواصلاتی رابطوں کو عام طور پر ’’گرے ٹریفک‘‘ کہا جاتا ہے اور اس کے عوض کمپنیاں حکومت کو کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد سلیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس انٹرنیشنل کلیئرنگ ہاؤس (آئی سی ایچ) کے تحت بیرون ملک سے آنے والی کالز صرف ایک راستے (گیٹ وے) کے ذریعے موصول ہوں گی جن کی باقاعدہ نگرانی کی جا سکے گی۔

’’14 گیٹ ویز سے ٹریفک آرہی ہے تو وہ (کمپنیاں) کچھ ٹریفک قانونی اور کچھ غیر قانونی طریقے سے لارہے ہیں اور پھر آگے بھیج رہے ہیں۔‘‘

انہوں کہا کہ رواں سال اکتوبر میں آئی سی ایچ متعارف کرایا تھا مگر ایک ماہ سے کم عرصے میں لاہور ہائی کورٹ نے اس کے خلاف حکم امتناعی جاری کرکے اسے روک دیا۔

ڈاکٹر سلیم اور پی ٹی اے کے دیگر حکام کے بقول صرف 25 روز میں اس نظام سے تقریباً سات کروڑ ڈالرز کی آمدن ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرے ٹریفک سے سالانہ کئی ارب ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک 10 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جو کہ گرے ٹریفک میں ملوث تھیں۔ ان کمپنیوں کو ایک ارب تیس کروڑ روپے کا جرمانہ کیا گیا ہے۔

حکومتی دعووں کے باوجود قانون سازوں کا کہنا ہے کہ گرے ٹریفک کو روکنے کے لیے موثر اقدامات سے حکام اجتناب کر رہے ہیں۔

سینیٹ کی کمیٹی برائے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے رکن محمد رفیق رجوانہ کہتے ہیں کہ مبینہ طور پر بیوروکریسی اور چند سیاست دانوں کی ملی بھگت سے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہو پائی۔

’’بڑے لوگ ملوث ہیں تب ہی تو کوئی نہیں دھرا جاتا۔ اگر کوئی غریب ہوتا تو کبھی کا اندر (جیل میں) ہوتا۔ اگر کسی پر ہاتھ ڈالا بھی جائے تو تھوڑی سے کارروائی کر کے پھر چپ کر جاتے ہیں۔‘‘

حکمران پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور اسی کمیٹی کے رکن سید فیصل رضا عابدی کی رائے بھی اپنے ساتھی سے کچھ مختلف نہیں۔

’’بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ایک گھر میں ڈیرھ سو ٹیلی فون کنکشن دیے گئے ہیں اور کمپنیوں کے حکام پارلیمانی کمیٹیوں میں آتے ہی نہیں جوابدہی کے لیے۔‘‘

شعبہ مواصلات اور سکیورٹی کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ غیر قانونی مواصلاتی رابطے دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

ممبئی میں ہونے والے حملوں میں پاکستانی اور بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی کرنے والے، معاون اور حملہ آوروں کے درمیان رابطے ایسے ہی غیر قانونی ایکسچینج کے ذریعے ہوئے تھے۔
XS
SM
MD
LG