رسائی کے لنکس

پاکستان: بجلی کے نرخوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن واپس

  • یاسر علی منصوری

وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت قوائد و ضوابط کے مطابق بجلی کے نرخوں کے از سر نو جائزے کے لیے نیپرا سے درخواست کرے گی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافے کے حالیہ نوٹیفکیشن کو واپس لے کر نئے نرخوں کے تعین کے لیے متعلقہ ادارے سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی حکومت نے بجلی کے نرخوں میں یکم اکتوبر سے 200 فیصد تک اضافے کا اعلان کیا تھا، جس پر عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کے اظہار کیا گیا۔

بجلی کی پیداوار و ترسیل کے نگران ادارے نیپرا کے قانون کے تحت ادارے کی جانب سے نرخوں کے تعین کے بعد ہی حکومت اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے۔

حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل منیر ملک نے جمعہ کو عدالتِ عظمیٰ کو تحریری طور پر مطلع کیا کہ متعلقہ نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم عدالتِ عظمیٰ کا تین رکنی بینچ بجلی کی بندش سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے اور اس نے نرخوں میں اضافے کے بعد حکومت سے وضاحت طلب کی کہ آیا نئے نرخوں کا تعین نیپرا نے کیا یا نہیں۔

جمعہ کو سماعت کے موقع پر وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے عدالت کو بتایا کیا کہ حکومت قوائد و ضوابط کے مطابق بجلی کے نرخوں کے از سر نو جائزے کے لیے نیپرا سے درخواست کرے گی۔

نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ نئے نرخوں کے تعین میں دو ہفتے یا اس سے زائد عرصہ صرف ہو گا۔ عدالت نے از خود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

ناقدین کا ماننا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ عالمی مالیاتی فنڈ سے قرض کے حصول کے وقت طے کی گئی شرائط کا حصہ ہے، جن میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے بجلی کے نرخوں کی مد میں دی جانے والی رعایت کو بتدریج کم کرنا شامل ہے۔

تاہم حکمران مسلم لیگ (ن) کے وزراء یہ واضح کرتے آئے ہیں کہ بجٹ خسارے کو کم کرنے اور ملک کی معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے اُن کی جماعت پہلے ہی مشکل فیصلے کر چکی تھی اور رعایتوں کی شرح میں کمی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے اسلام آباد میں جمعرات کو دیر گئے ایک تقریب سے خطاب میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ’’یہ کڑوی گولی‘‘ کھانا پڑے گی۔

’’یہ عبوری عرصہ ہے جس میں ہم کو اس سخت بات کو برداشت کرنا پڑے گا کیوں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘‘

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ کم آمدن والا طبقہ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے محفوظ رہے گا کیوں کہ اس کا اطلاق اُن صاحب استطاعَت صارفین پر ہوگا جو رعایت کے مستحق نہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ موسم سرما میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی اور گھریلو سطح پر قدرتی گیس کے استعمال میں اضافے کے باعث پن بجلی اور گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار متاثر ہو گی، جس سے بجلی کی بندش کے اوقات میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG