رسائی کے لنکس

پاکستان میں دہشت گردوں کی حکمت عملی تبدیل


پاکستان میں دہشت گردوں کی حکمت عملی تبدیل

پاکستان میں دہشت گردوں کی حکمت عملی تبدیل

دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کی حکمت عملی میں واضح تبدیلی محسوس ہورہی ہے۔ ایک جانب افغانستان سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری جانب اندرون ملک عوامی مقامات کے بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف بم دھماکے، خود کش حملے اورجدید ترین ہتھیاروں سے لیس جنگجو افراد کے حملے بڑھ گئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی رپورٹ نہیں ہوئے۔

اسامہ کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہوا جس کے بعد نہ صرف اندرون ملک بلکہ افغانستان سے منسلک سرحد پربھی افغان جنگجووٴں کی پاکستانی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں واضح اضافہ ہوا ۔صرف جون میں باجوڑ اور دیر میں جنگجوافراد کے پانچ حملے ہوئے جن میں 58 سیکورٹی اہلکار اور گیارہ شہری ہلاک ہوئے ۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں امن لشکرکے رضا کاروں کو اغواء بھی کیا گیا ۔

تبدیل شدہ منصوبہ بندی کے تحت محسوس ہوتا ہے کہ اب دہشت گردوں نے عام مقامات کے بجائے سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنا لی ہے ۔ کراچی میں نیول ائیر بیس سمیت ملتان ، خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر گیارہ بڑے حملے کیے گئے جن میں 153 اہلکار لقمہ اجل بنے۔

دوسری جانب عوامی مقامات میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں کمی دیکھی گئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہروں پشاور ، نوشہرہ اور ہنگو کے علاوہ پنجاب کے علاقے کھاریاں میں دھماکے کیے گئے جن میں 105 افراد لقمہ اجل بنے ۔

تبدیل شدہ حکمت عملی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ بالا حملوں کے علاوہ پاکستان کے دوست ممالک امریکا اور سعودی عرب سے تعلقات خراب کرنے کی بھی کوشش کی گئی اور ان ممالک کے سفارتخانوں پر تین حملے کیے گئے ۔ پشاور میں امریکی قونصلیٹ کی گاڑیوں پر بم حملوں میں امریکی شہری سمیت 13 افراد زخمی اور دو جاں بحق ہوئے ۔ کراچی میں سعودی قونصل خانے پر بموں سے حملہ کیا گیاتاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن اس واقعے کے چند دنوں بعد ہی سعودی قونصلیٹ کی گاڑی پر فائرنگ میں ایک سعودی سفارت کارقتل کردیا گیا۔

مسلح افغان جنگجوؤں کے پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملے

یکم جون : دیر بالا میں دو سو افغان جنگجوؤں کا پاکستانی چوکی پر حملہ ،27 اہلکار جاں بحق

دوجون : دیر بالا میں دوسرے روز بھی جھڑپیں جاری رہیں ۔ دودنوں میں مجموعی طور پر30 اہلکارجاں بحق ہوئے۔

3 جون : دیر میں افغان جنگجوؤں کے ایک اور حملے میں اسکول تباہ

سولہ جون : باجوڑ ایجنسی کے علاقے ماموند میں افغان شد ت پسندوں کا حملہ پانچ افراد ہلاک،امن لشکر کے 25 رضا کار بھی اغوا

چارجولائی : باجوڑ ایجنسی کے علاقے ماموند میں افغان جنگجوؤں کاایک اور حملہ ، ایک اہلکار جاں بحق۔

سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی تفصیلات ۔

سیکورٹی فورسز پر حملوں میں مجموعی طور پر153 اہلکار شہید ہوئے ۔ یہ واقعات مندرجہ ذیل تاریخوں پر ہوئے۔

9مئی : نوشہرہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے احاطے میں پولیس پر حملہ ، خاتون پولیس کانسٹیبل ہلاک

12مئی : چار سدہ ایف سی کی تربیت گاہ پر دو خود کش حملوں میں 92 اہلکار ہلاک

18 مئی : پشاور میں سیکورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ ، دو اہلکار ہلاک

22 مئی : کراچی میں پاکستان بحریہ کے مہران بیس پر حملہ ، 15 اہلکارہلاک

25 مئی : پشاور میں سی آئی ڈی تھانے پر خود کش حملہ ، 11 اہلکار ہلاک

8جون : سیکورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ ، ایک اہلکارہلاک

9 جون : جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ ، دس اہلکار ہلاک

18 جون : جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ ، دو اہلکار ہلاک

25 جون : ڈیرہ اسماعیل خان تھانے پر حملہ ، دس اہلکار ہلاک

26 جون : ملتان میں تھانے پر حملہ ، 3 اہلکار ہلاک

03 جولائی : خیبرپختونخواہ کے ضلع شانگلہ میں پولیس پر حملہ ، تین اہلکار ہلاک

6 جولائی : شمالی وزیرستا ن میں سیکورٹی فورسز پر حملہ ، تین اہلکار ہلاک

عوامی مقامات کو چار مرتبہ نشانہ بنایا گیا جس میں 105 افراد جاں بحق ہوئے ۔

14 مئی : پنجاب کے شہر کھاریاں میں مسافر بس میں دھماکا ، 7 افراد جاں بحق

25 مئی : خیبر پختونوخواہ کے ضلع ہنگو میں کار بم دھماکا ، 36 افراد جاں بحق

چار جون : نوشہرہ میں دھماکا ،22 افراد جاں بحق

11 جون : خیبر مارکیٹ میں دو دھماکے ، 40 افراد جاں بحق 12

XS
SM
MD
LG