رسائی کے لنکس

پاکستان میں شدت پسند رجحانات میں اضافہ ۔ حل کیا ہو؟


پاکستان میں شدت پسند رجحانات میں اضافہ ۔ حل کیا ہو؟

پاکستان میں شدت پسند رجحانات میں اضافہ ۔ حل کیا ہو؟

پاکستان نئے سال کے آغاز پر جن پیچیدہ مسائل میں گھرا ہے اس میں پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ طبقے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندسوچ ماہرین کے مطابق ایک بڑا اور تشویشناک پہلو بن کر سامنے آئی ہے ، جس کی سنگینی کا احساس پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کی موت پر سامنے آنے والے اس ردعمل سے ہوتا ہے ۔ لیکن امریکی صحافی پامیلا کانسٹیبل جو کئی بار اپنی صحافتی فرائض کے دوران پاکستا ن جا چکی ہیں اور پاکستان کے سماجی تانے بانے سے گہری واقفیت رکھتی ہیں ، پاکستان کے شدت پسندوں کے ہاتھوں میں جانے کے اندیشے کو مبالغہ آمیزی قرار دیتی ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کے ہاتھ میں تو نہیں جا سکتا ، مگر اسے ان لوگوں سے خطرہ ضرور ہے جو انتہا پسندسوچ کے مالک ہیں۔ وہ لوگ جو صوفیوں کے مزاروں ، عبادت گاہوں ، مارکیٹوں ، مساجد اور فوجی اداروں پر حملے کر رہے ہیں،وہ لوگ جنہیں اپنے ملک کی کوئی فکر ہی نہیں ہے ۔وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں پاکستان میں ہر شخص چاہتا ہے کہ ایسا نہ ہو ۔مگر سوال یہ ہے ایسا کیسے کیا جائے۔

واشنگٹن میں بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح پامیلا کانسٹیبل بھی پاکستان کے تمام مسائل کا حل تعلیم کے فروغ میں تلاش کرتی ہیں ، اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے روکنے کے لئے انہیں ریاست کا فعال حصہ ہونے کا احساس دلانا بے حد ضروری ہے کیونکہ اس کی زیادہ تر نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم تک رسائی نہیں ہے۔ کئی بچے سکول جانے کے بجائے مدرسوں میں جاتے ہیں اور مدرسہ کی تعلیم اعلی تعلیم کا متبادل نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی بچوں کا تعلیم حاصل کرنا ، ٹیکنالوجی اور بیرونی زبانیں سیکھنا اور فعال شہری بننا بےحد ضروری ہے تاکہ وہ ریاست کے ساتھ مل کر چلنے سے کوئی فائدہ حاصل کریں ۔

پامیلا کانسٹیل کہتی ہیں کہ پاکستان کی بدقسمتی رہی کہ اس کے پڑھے لکھے سیاسی لیڈر مارے گئے یا اقتدار سے الگ کر دیئے گئے مگر ایسی نسل تیار کرنے کی ضرورت ہے ، جو سیاست اور جمہوریت میں یقین رکھتی ہو ، جو نظام کا حصہ بننا چاہتی ہو اور سیاست کو لالچ اور بد دیانتی سے داغدار نہ کرنا چاہتی ہو ، اس سے تبدیلی آئے گی، لیکن یہ راتوں رات نہیں ہو گا ۔اس کے لئے ادارے مضبوط کرنے ہونگے ۔ رویے تیار کرنے ہونگے،ایسا نظام بنانا ہوگا جو لوگوں کے لئے زیادہ متاثر کن ہو، جہاں وہ سوچیں کہ صرف عہدہ ملنے سے میں ایم پی اے ایم این اے نہیں بنتا بلکہ مجھے کچھ اچھے کام بھی کرنے ہونگے ۔

پاکستانی کالم نویس مواحد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی کے رجحانات میں اضافہ ملکی قیادت اور سیاسی نظام کے خلاف ایک ردعمل بھی ہے ، جسے ختم کرنے کے لئے پاکستانی جمہوریت کی تعریف پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ مواحد حسین کہتے ہیں کہ پاکستانی میں شدت پسندی بڑھانے کی زمہ داری سسٹم پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں الیکشن نہیں ، آکشن (نیلام)ہوتا ہے ، جس میں ملک کے ایک فیصد ارب پتی افراد کو سو فیصد طاقت مل رہی ہے ۔ اگر مڈل کلاس کو طاقت ملے گی تو ہی ملک سدھرے گا ۔ کیونکہ سوکالڈ جمہوریت ملٹنسی کی بنیاد ڈال رہی ہے جس سے پاکستان کو سخت خطرہ ہے ۔

لیکن پاکستان میں جمہوری نظام کی بقا ہو یا تعلیمی مواقعوں میں اضافہ ، بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی حل تب تک کارگر نہیں ہو سکتا ، جب تک پاکستانی عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے مواقعوں کی عدم دستیابی دور نہ کیا جائے ۔

XS
SM
MD
LG