رسائی کے لنکس

زیادہ تر واقعات صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں ہوئے جہاں 166 ہلاکتیں ہوئیں ۔ صوبائی دارالحکومت پشاوراور صوبے کے دیگر شہر سب سے زیادہ دہشت گردوں کے نشانے پر رہے

پاکستان میں سال 2012ء کا سورج اس آس کے ساتھ طلوع ہوا تھا کہ اس سال دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا اور پچھلے کئی سال سے جاری دہشت گردی کے شکار ملک کی حالت میں کچھ سدھار آ سکے گا لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود نہ تو دھماکے رک سکے اور نہ ہی خود کش حملوں میں ہی کوئی کمی آسکی۔

نیا سال شروع ہوئے ابھی صرف ڈھائی ماہ ہوئے ہیں اور ان ڈھائی ماہ میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 190افراد ہلاک ہوگئے۔یہ اعداد و شمار واقعات کی بنیاد پر اکھٹا کئے گئے ہیں۔ زیادہ تر واقعات صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں ہوئے جہاں 166 ہلاکتیں ہوئیں ۔ صوبائی دارالحکومت پشاوراور صوبے کے دیگر شہر سب سے زیادہ دہشت گردوں کے نشانے پر رہے۔

جنوری2012ء
رواں سال کے پہلے مہینے میں ملک کے مختلف شہروں میں دھماکوں اور خود کش حملوں کے چھ واقعات میں 73 افراد مارے گئے ۔ دہشت گردوں نے پشاور اور خیبر ایجنسی کو دو ، دو مرتبہ نشانہ بنایا جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کو ایک مرتبہ ۔ان چار واقعات میں 51 لوگ زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ پنجاب کے علاقے خان پور میں چہلم کے جلوس کو نشانہ بنایا گیا جس میں 18 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ بلوچستان کے ضلع سوئی میں ریموٹ کنٹرول دھماکے میں چار افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا ۔

فروری 2012ء
فروری میں دس دھماکے و خود کش حملے کیے گئے جن میں نو دفعہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں کونشانہ بنایا گیا جن میں 79 لوگ ہلاک ہوئے ۔ چار بار پشاور ، ایک ، ایک مرتبہ صوابی ، نوشہرہ ، دیر بالا ، لنڈی کوتل اور پاراچنار دہشت گردی کا شکار ہوئے جن میں مجموعی طور پر 77 لوگ مارے گئے ۔ اس کے علاوہ ایک واقعہ بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی میں پیش آیا جہاں دو سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ۔

مارچ 2012ء
مارچ کے وسط تک پانچ واقعات رونما ہوہوئے جو تمام کے تمام خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات میں پیش آئے ۔ پشاور ، چارسدہ ، خیبر ایجنسی ، کرم ایجنسی اور باجوڑ ایجنسی میں پیش آنے ان واقعات میں پندرہ مارچ تک38 لوگ مارے جا چکے تھے ۔

سیاسی جماعتوں اور جلسے جلوسوں پر حملے
پہلے ڈھائی ماہ کے دوران پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے جلسے جلوس پر بھی حملے کیے گئے ۔ دس فروری کو صوابی میں عمران خان کے جلسے پر بم حملے میں ایک اہلکار شہید ہوا جبکہ 27 فروری کو اے این پی کے جلسے میں دھماکا ہوا جس میں نو افراد جاں بحق ہوئے ۔ اس کے علاوہ 2 مارچ کو پیپلزپارٹی شیرپاؤ کے قافلے پر خود کش حملے میں بھی دو افراد ہلاک ہوئے ۔

واقعات کی تفصیلات
جنوری
۔یکم جنوری : بلوچستان کے ضلع سوئی میں ریموٹ کنٹرول دھماکا ، تین اہلکارں سمیت چار افراد جاں بحق
۔3 جنوری : پشاور اور خیبر ایجنسی میں بم دھماکے ، چھ افراد جاں بحق ، 32 زخمی
۔10 جنوری : خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں مسافر وین میں ریموٹ کنٹرول دھماکے میں 35 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ۔
۔14 جنوری : ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈی پی او آفس پر خود کش حملے میں چھ افراد جاں بحق ہوئے۔
۔16 جنوری : پنجاب کے علاقے خان پور میں چہلم کے جلوس میں دھماکا ، 18 افراد جاں بحق
۔30 جنوری :پشاورمیں پخہ غلام میں خود کش حملہ ، کالعدم انصار السلام کے امیر سمیت 4 ہلاک
۔۔۔۔
فروری
یکم فروری : پشاور کے نواحی علاقے میں خود کش کار بم دھماکا ، 4 افراد جاں بحق
۔4 فروری : پشاور کے نواحی علاقے پشتہ خرہ میں کار خود کش حملہ ، چار جاں بحق
۔10 فروری : صوابی میں عمران خان کے جلسے کے بعد بم دھماکا ، ایک اہلکار جاں بحق
۔16 فروری : دیر بالا میں قومی لشکر کے جرگے پر خود کش حملہ ، 3 افراد جاں بحق
۔17 فروری : کریم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پارا چنار میں جامع مسجد کے باہر خود کش حملہ ، 27 جاں بحق ، 45 زخمی
۔18 فروری : ڈیرہ بگٹی میں فورسز کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ ، 2 اہلکار شہید
۔20 فروری : لنڈی کوتل میں امن لشکر پر بم حملہ ، 9 رضا کار جاں بحق
۔23 فروری : پشاور میں ویگن اڈے پر کھڑی کار میں نصب بم دھماکے سے 16 جاں بحق ، 50 زخمی
۔24 فروری : پشاور کے علاقے کوتوالی میں خود کش حملہ ، چار اہلکار شہید
۔27 فروری : نوشہرہ میں اے این پی کے جلسے میں دھماکا ، 9 ہلاک ، 34 زخمی
۔۔۔۔۔۔۔
مارچ
۔2 مارچ: خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں خود کش حملہ ، 23 افراد ہلاک
۔2 مارچ : ضلع چار سدہ میں وٴ آفتاب شیر پاؤ کے قافلے پر خود کش حملہ ، 2 اہلکار شہید
۔12 مارچ : کریم ایجنسی میں مسافر کوچ میں ریموٹ کنٹرول دھماکا ، 6 افراد جاں بحق ، 21 زخمی
۔14 مارچ : باجوڑ ایجنسی میں قبائلی رہنما کے حجرے پر خود کش حملہ ، 6 افراد جاں بحق
۔15 مارچ : پشار کے علاقے پشتہ خرہ چوک پر خود کش دھماکے میں ایس پی رورل پشاور شہید ہو گئے ۔

XS
SM
MD
LG