رسائی کے لنکس

’دہشت گرد حملوں کے لیے بارودی مواد کا ذریعہ افغانستان ‘


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ دیسی ساختہ بم شدت پسندوں کا سب سے بڑا اور مہلک ترین ہتھیار بن گیا ہے جس کے لیے بارود افغانستان سے لایا جا رہا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں دیسی ساختہ بموں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کا سامنا کرنے کے موضوع پر ہونے والے سیمینار سے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں نے پاکستان میں دیسی ساختہ بموں کے ساڑھے سولہ سو سے زائد حملے کیے ہیں جن میں سے تقریباً سب کے سب افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں، صوبہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں کیے گئے۔

اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان اپنے علاقے میں افغان سرحد کے راستے اسلحہ بارود کی ترسیل روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا جس کا ایک ثبوت گیارہ سو سے زائد سرحدی چوکیوں کا قیام ہے۔ لیکن افغانستان میں مقامی سکیورٹی فورسز اور ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی افواج کی موجودگی کے باوجود سرحد پار ایسی چوکیوں کی تعداد صرف ایک سو سے کچھ زائد ہے جس کی وجہ سے اسلحہ بارود سے لیس جنگجوؤں کی نقل و حرکت کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر داخلہ نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں افغانستان کے اس کردار کا دعویٰ ایسے وقت کیا ہے جب کہ خود افغانستان میں طالبان جنگجوؤں غیر ملکی افواج اور افغان سکیورٹی فورسز کو تواتر کے ساتھ دیسی ساختہ بموں کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔ رواں سال بین الاقوامی فوجی اتحاد کے لیے گذشتہ نو برس سے جاری جنگ میں مہلک ٹرین ثابت ہو رہا ہے اور اب تک اس کے ساٹھے چھ سو سے زائد اہلکار مارے جاچکے ہیں۔

دریں اثنا جمعرات کو صوبہ خیبر پختون خواہ کے علاقے ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر سڑک میں نصب بم سے کیے گئے حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔

XS
SM
MD
LG