رسائی کے لنکس

پاکستان میں القاعدہ کے گرفتار اور ہلاک ہونے والے رہنما

  • یاسر منصوری

پاکستان میں القاعدہ کے گرفتار اور ہلاک ہونے والے رہنما

پاکستان میں القاعدہ کے گرفتار اور ہلاک ہونے والے رہنما

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، میں بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں سے کیے گئے مبینہ امریکی میزائل حملوں میں بھی القاعدہ کے متعدد اہم رہنما ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سرفہرست مصطفیٰ ابو الیزید اور شیخ الفتح شامل ہیں۔

امریکہ نے نیو یارک اور واشنگٹن پر 11 ستمبر 2001ء کی صبح ہونے والے منظم دہشت گرد حملوں کے جواب میں اپنے دیگر مغربی اتحادیوں کی معاونت سے افغانستان میں اعلانیہ جنگ کا آغاز کیا تھا، جس نے کئی سال کی لڑائی سے تباہ حال اس ملک میں موجود القاعدہ اور اُس کی حامی عسکری تنظیم طالبان کے جنگجوؤں کو پاک افغان سرحد کے سنگلاخ علاقوں میں رو پوش ہونے پر مجبور کر دیا۔

امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک سمیت افغان عہدے داروں کا ہمیشہ سے موقف رہا کہ القاعدہ اور طالبان کی مفرور قیادت نے ابتدائی طور پر افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لی اور بعد ازاں اس میں سے کئی اس قبائلی پٹی میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشنز اور مبینہ امریکی ڈرون حملوں کے پیش نظر ملک کے مرکزی علاقوں میں منتقل ہو گئے۔

القاعدہ کے اہم مفرور رہنماؤں کی پاکستان میں مختلف موقعوں پر عمل میں آنے والی گرفتاریوں اور ہلاکتوں نے ان قیاس آرائیوں کو تقویت بخشی۔

افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد سے پاکستان میں ہلاک یا گرفتار کیے گئے القاعدہ کے چند اہم رہنماؤں کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں؛

اسامہ بن لادن

القاعدہ کے سربراہ اور امریکہ کو انتہائی مطلوب افراد میں سر فہرست اسامہ بن لادن کو 2 مئی بروز پیر کو اسلام آباد سے تقریباً 125 کلومیٹر شمال مشرق میں ایبٹ آباد شہر کے ایک مہنگے رہائشی علاقے میں امریکی سپیشل فورسز کے اہلکاروں نے رات کی تاریکی میں کیے گئے ایک آپریشن میں ہلاک کر دیا۔

ایبٹ آباد ایک معروف سیاحتی مقام ہے جس کی حدود میں واقع کاکول چھاؤنی میں فوجی افسران کی بنیادی تربیت گاہ ’پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے)‘ کے علاوہ درجنوں فوجی مراکز قائم ہیں۔ اسامہ بن لادن کو جس گھر میں ہلاک کیا گیا وہ پی ایم اے سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

خالد شیخ محمد

ستمبر 2001ء کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے والے القاعدہ کے اہم رہنما خالد شیخ محمد کو پاکستانی اور امریکی انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے یکم مارچ 2003ء کو راولپنڈی میں کی گئی ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا۔ خالد شیخ محمد پر 1993ء میں بھی نیو یارک کے ورلڈٹریڈ سنٹر پر ہونے والے بم حملے سمیت متعدد دیگر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

رمزی بن الشبح

یمنی باشندے رمزی بن الشبح کو ستمبر 2001ء کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ٹھیک تیسری برسی کے موقع پر پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی سے گرفتار کیا گیا۔

ابو زبیدہ

ابو زبیدہ کے نام سے مشہور زین العابدین محمد حسین کو 28 مارچ 2002ء کو وسطی صوبے پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں ایک گھر سے گرفتار کیا گیا۔ ابو زبیدہ کی ایک خفیہ آپریشن میں ہونے والی گرفتاری کو ستمبر 2006ء تک پوشیدہ رکھا گیا۔

ابو فراج اللیبی

ابو فراج اللیبی

ابو فراج اللیبی

ابو فراج اللیبی کو 4 مئی 2005ء کو پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے صوبہ خیبر پختون خواہ کے علاقے مردان سے گرفتار کیا۔ اللیبی القاعدہ کے رہنماؤں میں نمبر تین پر تھا اور پاکستانی حکام کے بقول وہ صدر پرویز مشرف پر دسمبر 2003ء میں ہونے والے دو ناکام خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی شامل رہا۔

ابو موصاب الثوری

ابو موصاب الثوری، جس کا اصل نام مصطفیٰ ست مریم نصار تھا، کو پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے جنوب مغربی شہر کوئٹہ سے اکتوبر 2005ء میں گرفتار کرنے کے ایک ماہ بعد امریکہ کے حوالے کر دیا۔

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، میں بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں سے کیے گئے مبینہ امریکی میزائل حملوں میں بھی القاعدہ کے متعدد اہم رہنما ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سرفہرست مصطفیٰ ابو الیزید اور شیخ الفتح شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG