رسائی کے لنکس

دہشت گردی نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا: وزیرِ اعظم


وزیراعظم راجہ پرویز اشرف تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

وزیراعظم نے کہا کہ اس مسئلے کا حل اجتماعی طور پر دانشمندی کے ساتھ ہی ممکن ہے اور پاکستان کی حکومت اور اس ملک میں بسنے والے ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے جمعہ کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ مٹھی بھر افراد اپنا مخصوص ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں لیکن پاکستانی عوام کسی طور بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل اجتماعی طور پر دانشمندی کے ساتھ ہی ممکن ہے اور پاکستان کی حکومت اور اس ملک میں بسنے والے ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔

’’دہشت گردی نے پاکستان کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ دنیا کی کسی طاقت نے نہیں پہنچایا۔ آپ سمجھتے ہیں نا کہ ہمارے بچے غیر محفوظ ہیں۔ ہم نے دانشمندی کے ساتھ اس کا حل نکالنا ہے۔‘‘

اسلام آباد میں منعقدہ اس تقریب میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن بھی موجود تھے، اس موقع پر وزیراعظم پرویز اشرف نے ڈرون حملوں سے متعلق حکومت پاکستان کے موقف کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت پاکستان نے ہمیشہ ہر فورم پر یہ بات کی ہے کہ ڈرون حملے جو ہیں وہ کسی صورت میں بھی مسئلہ کا حل نہیں ہیں۔‘‘

ڈرون حملوں سے متعلق پاکستانی وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کے حملوں اور ہدف بنا کر کی جانے والی ہلاکتوں کے معاملات پر تفتیش کے احکامات دیے ہیں۔

یہ تفتیش یا انکوائری اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی بن امرسن کریں گے۔ پاکستان اُن تین ملکوں میں سے ایک ہے جنھوں نے تفتیش کی درخواست کی تھی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے جمعرات کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سے انکوائری کی درخواست کی تھی۔

معظم احمد خان نے کہا کہ پاکستان نے دیگر ہم خیال ممالک کے ہمراہ اقوام متحدہ سے دیگر معاملات کے علاوہ ہدف بنا کر کی جانی والی ہلاکتوں بشمول ڈرون حملوں میں شہری ہلاکتوں کی تفتیش کی درخواست کی تھی۔

پاکستان ڈرون حملوں کو ملکی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے لیکن امریکی عہدیدار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسے ایک موثر ہتھیار گردانتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG