رسائی کے لنکس

جنرل راحیل شریف نے حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے عمل کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے عمل کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

جنرل راحیل شریف نے یہ بیان ہفتہ کو پشاور میں کور ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر دیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشت گردوں کے حملوں کا موثر جواب دیا جائے گا۔

اُنھوں نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شدت پسندی سے متاثر علاقوں میں فرائض انجام دینے والے فوجی افسران اور اہلکاروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

جنرل راحیل نے دہشت گردی سے متاثر قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے انتظامی اضلاع میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے منصوبوں کی جلد تکیمل کی بھی ہدایت کی۔
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف



پاکستانی فوج کے سربراہ کے اس بیان سے ایک روز قبل وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی جائز ہے۔

حالیہ دنوں میں ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان شدت پسندوں کی کارروائیوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی ہے اور رواں ہفتے بدھ کجھوری مقام پر سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی سے ملحقہ مسجد سے خودکش حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک ٹکرا دیا جس سے کم از کم پانچ اہلکار ہلاک اور لگ بھگ 30 زخمی ہو گئے تھے۔

حملے کے وقت سکیورٹی فورسز کے اہلکار مسجد میں مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے۔

فوجی حکام کے مطابق اس حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کو ایک قریبی اڈے پر منتقل کرنے کے لیے جو قافلہ بھیجا گیا تھا اُسے پر گھات لگائے شدت پسندوں نے فائرنگ کی جس سے تین مزید اہلکار زخمی ہوئے۔

اس واقع کے بعد میرعلی کے علاقے میں سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور حکام کے مطابق ازبک جنگجوؤں سمیت 33 شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

لیکن جس علاقے میں یہ کارروائی کی گئی وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کو رسائی نہیں اس لیے آزاد ذرائع ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق تقریباً نا ممکن ہے۔

رواں ہفتے کے اوائل میں وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستانی اعلیٰ عسکری اور سیاسی عہدیداروں پر مشتمل کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شدت پسندوں سے مذاکرات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جب کہ طاقت کو آخری حربے کے طور پر استعمال کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے آغاز سے قبل پاکستانی طالبان کا امیر حکیم اللہ محسود ایک ڈرون حملے میں یکم نومبر کو مارا گیا تھا جس کے بعد طالبان نے ملا فضل اللہ کو اپنا نیا سربراہ مقرر کیا۔

اطلاعات کے مطابق ملا فضل اللہ نے حکومت سے مذاکرات کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
XS
SM
MD
LG