رسائی کے لنکس

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے رکن طاہر حسین مشہدی نے زور دیا کہ پاکستانی قوانین کا عالمی معیار کے مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا بھرپور انداز میں نفاذ بھی ہونا چاہیے۔

عالمی سطح پر پاکستان کو پیش آنے والی ممکنہ مشکلات کے پیش نظر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کے اراکین کا کہنا ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے خلاف نواز شریف انتظامیہ کی طرف سے پیش کردہ بل منظور کر لیا ہے۔

کمیٹی کے رکن اور متحدہ قومی موومنٹ کے قانون ساز طاہر حسین مشہدی نے ہفتہ کو وائس آف مریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ کے عہدیداروں کے مطابق اگر اس بل کو فوراً پارلیمان سے منظور نا کروایا گیا تو پاکستان کو بین الاقوامی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے۔ مجوزہ قانون کے بارے میں ان کا کہنا تھا۔

’’کالعدم تنظیم کی تعریف بہت مبہم تھی تو ہم نے اسے بیان کر دیا اور جیسا کہ پاکستان میں ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی اور نام سے بھی آئے تو وہ کالعدم ہی رہے گی۔ کالعدم تنظیم کے تمام اکاؤنٹس منجمد ہو جائیں گے۔‘‘

انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی قوانین کا عالمی معیار کے مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا بھرپور انداز میں نفاذ بھی ہونا چاہیے۔

’’دہشت گرد، دہشت گرد ہونا چاہیے۔ اچھا اور برا کچھ نہیں ہوتا۔‘‘

قومی اسمبلی پہلے ہی اس بل کو منظور کر چکی ہے اور اب ایوان بالا یعنی سینیٹ سے منظوری کے بعد اسے ایک قانون کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔

یہ بل تیرہ رکنی کمیٹی کے تین اراکین نے متفقہ طور پر منظور کیا تاہم قائمہ کمیٹی کے چیئرمین طلحہ محمود نے بتایا کہ کمیٹی نے انسداد دہشت گردی سے متعلق ترمیمی بل کی منظوری موخر کر دی جس کے تحت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشتبہ افراد پر گولی چلانے کی اجازت دینے کا کہا گیا تھا۔

’’حکومت کی طرف سے زور تو بہت ڈالا گیا کہ کم از کم آپ اسے سن تو لیں تو ہم نے کہا کہ جو کہتے ہیں کہیں مگر یہ ایسے ہی منظور نہیں ہوگا جب تک ہم سمجھیں گے نہیں اور اگر ہماری کوئی ان پٹ ہوئی تو وہ دیں گے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے مجوزہ قانون پر ’’تقریباً دو گھنٹے‘‘ بحث ہوئی۔

’’ہم نے تو تمام اراکین کو نوٹس بھیجے تھے اب ہم انہیں زبردستی بلا یا روک تو نہیں سکتے۔‘‘

نواز انتظامیہ کو پارلیمان سے دہشت گردی اور لاقانونیت سے متعلق قانونی مسودوں کی منظوری میں شدید مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔

حزب اختلاف اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کا کہنا ہے کہ نواز انتظامیہ کی طرف سے حکومت کے بقول سخت قانونی مسودے انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں اور حکومت ان کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان میں ترمیم کرنے کو تیار نہیں۔

تاہم حکومت میں شامل عہدیدار ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک میں جاری خونریز شدت پسندی اور لاقانونیت سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے سخت قوانین متعارف کروانا وقت کی ضرورت ہے۔

مئی 2013 کے انتخابات میں اقتدار میں آنے کے بعد نواز انتظامیہ پارلیمان سے اب تک ایک بھی قانون منظور نہیں کروا سکی۔
XS
SM
MD
LG