رسائی کے لنکس

تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اب حکومت کے لیے طالبان سے بات چیت جاری رکھنے کا جواز پیش کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے کراچی ائیر پورٹ پر مہلک حملے سے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی مجموعی سلامتی کی صورتحال، بالخصوص حساس سرکاری تنصیبات کی حفاظت اور گزشتہ ایک ماہ سے تعطل کے شکار شدت پسندوں سے مذاکرات کے مستقبل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد مذاکرات عملاً ختم ہو گئے ہیں اور آئندہ آنے والے دنوں میں حکومت کی طرف سے کارروائی اور عسکریت پسندوں کی طرف سے مزید حملے ہو سکتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ نگار اور سابقہ وائس ایئر مارشل شہزاد چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا۔

’’مذاکرات میں سنجیدہ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے مقاصد کو بات چیت کے ذریعے حاصل کیا جائے۔ جو بھی اس عمل میں جاتا ہے وہ دوسرے کے مقاصد حل کرنے کے لیے نہیں جاتا ۔۔۔ تو شاید دونوں اطراف میں یہ صورتحال نہیں آئی کہ ان کے لیے مذاکرات ہی آپشن ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے شدت پسندوں نے راولپنڈی کے قریب ایک حساس ادارے کی گاڑی پر حملہ کرکے دو فوجی افسران سمیت پانچ افراد کو ہلاک کر دیا۔

نواز شریف انتظامیہ نے مارچ میں طالبان سے قیام امن کے لیے بات چیت کا عمل شروع کیا مگر ایک ماہ کے بعد ہی عسکریت پسندوں نے حکومت پر مذاکرات سے متعلق غیر سجیدہ رویہ رکھنے کے الزامات لگاتے ہوئے فائر بندی میں توسیع سے انکار کردیا اور اسی وقت سے بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہے۔

اسی کے بعد سے طالبان نے تشدد کی کارروائیوں شروع کر دیں جس پر فوج کی طرف سے جوابی کارروائیاں بھی دیکھنے میں آئیں۔ تاہم حکومت یا طالبان میں سے کسی نے مذاکراتی عمل ختم کرنے کے اعلان نہیں کیا۔

حکومت کی سابق مذاکراتی ٹیم کے رکن اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے پے در پے بڑے حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال میں اب حکومت کے لیے طالبان سے بات چیت جاری رکھنے کا جواز پیش کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

’’پہلے مذاکرات کے حق میں جو رائے تھی وہ شاید مضبوط تھی لیکن وہ کمزور پڑ رہی ہے۔ حکومت نے بھی کچھ حرکت نہیں کی، کم از کم جو گروپ علیحدہ ہوا ہے اس سے بات کرے (شاید) حکومت بھی مایوس ہو گئی ہے یا فوج اور دیگر حلقوں کی طرف سے دباؤ ہے جو مذاکرات نہیں چاہتے۔‘‘

حال ہی میں محسود جنگجوؤں کے ایک اہم گروہ نے تحریک طالبان پاکستان کی حکمت عملی سے اختلاف اور قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے تںطیم سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

رحیم اللہ کا کہنا تھا کہ طالبان نے کراچی ائیر پورٹ پر حملہ کر کے یہ پیغام بھی دینے کی کوشش کی کہ وہ اس تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے کسی بھی حصے میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علما اسلام (ف) کے ترجمان جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ
’’ایک تاثر بن رہا ہے کہ حکومت مذاکرات کو فوج کے خلاف ایک حربے طور پر استعمال کر رہی ہے کہ وہ تو امن کی دائی ہے اور فوج امن نہیں چاہتی۔ تو اگر حکومت اور فوج میں یکسوئی نہیں تو فوج کو دہشت گردی کے خاتمے کا جو ٹاسک دیا جائے گا اس میں ان کے عزم پر برا اثر مرتب ہو گا۔‘‘

حکومت میں شامل عہدیدار مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق حکمت عملی میں فوج اور حکومت میں کوئی اختلاف نہیں۔

رابطے کی متعدد کوششوں کے باجود نواز انتظامیہ کے حکام کی جانب سے مذاکرات یا مسقتبل کے لائحہ عمل پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ۔

بعض ماہرین اور سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ طالبان نے مذاکرات کو صرف اپنے آپ کو منظم کرنے اور کراچی ائیر پورٹ جیسے بڑے حملوں کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
XS
SM
MD
LG