رسائی کے لنکس

دہشت گرد تنظیموں کے مالی وسائل کو روکنا ضروری ہے: وزیر داخلہ

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

تسنیم نورانی نے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں بھی غیر قانونی کاموں کے لیے پیسے کی ترسیل کا پتا چلانا انتہائی مشکل کام ہے اور اس کے لیے بہت مستقل مزاجی اور لگن سے کام کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے مالی وسائل کا سدباب کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے پر زور دیا۔

یہ بات انہوں نے پیر کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہی جس میں ایف آئی اے سربراہ اور علاقائی ڈائریکٹرز شریک تھے۔

سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں بھی غیر قانونی کاموں کے لیے پیسے کی ترسیل کا پتا چلانا انتہائی مشکل کام ہے اور اس کے لیے بہت مستقل مزاجی اور لگن سے کام کی ضرورت ہے۔

تسنیم نورانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چونکہ معیشت کا کافی بڑا حصہ غیر اندراج شدہ ہے جس کی وجہ سے یہ کام اور بھی زیادہ مشکل ہے۔

’’ جب تک حکومتی ادارے سنجیدگی سے کوشش نہیں کریں گے، جب تک کوئی اس کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی نہیں کرے گا، کوئی اہداف مقرر نہیں کرے گا تو یہ معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ بامعنی نتائج حاصل کرنے کے لیے طویل المعیاد سطح پر کام کرنا ہو گا اور اس کی ہفتہ وار یا ماہانہ نگرانی کرنا ہو گی۔

تاہم بہت سی تنظیمیں بینکوں کے ذریعے پیسے کی ترسیل نہیں کرتیں۔ اس پر تسنیم نورانی نے کہا کہ زیادہ تر رقوم کی ترسیل ہنڈی کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس میں عام کاروباری حضرات ملوث ہوتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کرنے کی ضرورت ہے۔

تسنیم نورانی کا کہنا تھا کہ اسی طرح حکومت کو ایسے ممالک اور افراد سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے جن کی عطیہ کی گئی رقوم کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول ان تمام سطحوں پر مربوط کام کرنے سے دہشت گرد تنظیموں کے وسائل کا سدباب کرنے سے ہی کچھ نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔

حکومت نے حال ہی میں انسداد دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے متعدد اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیے ہیں اور پیر کا اجلاس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیراعظم نے تنظیم اتحاد المدارس کے نمائندوں کے ایک وفد سے ملاقات کی جس میں مدرسوں کے اندراج کو سہل اور یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے گیے گئے۔ اس اجلاس میں فوج کے سربراہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ نے بھی شرکت کی۔

پاکستان میں ہزاروں مدرسے کام کر رہے ہیں مگر حکومت کے پاس ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق مدرسوں سے وابستہ کچھ افراد انہیں دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل بھی مدرسوں کے اندراج کی کئی کوششیں ہو چکی ہیں مگر اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم اب حکومت یہ کام کرنے میں پر عزم نظر آتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد حکومت نے انسداد دہشت گردی کے لیے قومی لائحہ عمل تیار کیا تھا جس کے کچھ حصوں پر پیش رفت ہوئی ہے مگر کافی حصوں پر کام کرنا باقی ہے۔ مدرسوں کا اندراج اور دہشت گروں کے وسائل کا سدباب بھی ان حصوں میں شامل ہیں جن پر بہت سا کام کرنا باقی ہے۔

XS
SM
MD
LG