رسائی کے لنکس

پاکستان کا ’کروز میزائل‘ کا تجربہ


کروز میزائل ’رعد‘

کروز میزائل ’رعد‘

فوج کے بیان کے مطابق رعد کروز میزائل ’’اسٹیلتھ‘‘ ٹیکنالوجی کا حامل ہے، یعنی وہ ریڈار کی پکڑ میں نہیں آتا اور انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے ساتھ انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان نے پیر کو کروز میزائل ’رعد‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ملک میں تیار کردہ کروز میزائل ’رعد‘ 350 کلو میٹر تک کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بیان میں کہا کہ کروز ٹیکنالوجی انتہائی پیچیدہ نوعیت کی ہے جو کچھ ہی ممالک کے پاس ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق رعد کروز میزائل ’’اسٹیلتھ‘‘ ٹیکنالوجی کا حامل ہے، یعنی وہ ریڈار کی پکڑ میں نہیں آتا اور انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے ساتھ انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسٹریٹیجک پلان ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات نے اس میزائل کی تیاری سے وابستہ سائنسدانوں اور انجینیئروں کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے ملکی دفاع کی کم از کم صلاحیت کے حصول کی جانب پیش رفت قرار دیا۔

اُنھوں نے ’اسٹریٹیجک فورس‘ کی تیاری اور اس سے منسلک تمام اہلکاروں کی تربیت پر اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

بیان کے مطابق اس کامیاب تجربے پر وزیراعظم نواز شریف اور صدر ممنون حسین نے بھی میزائل نظام سے وابستہ تمام افراد کی کوششوں کو سراہا۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان جوہری ہتھیار اپنے ہدف تک لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے کئی بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کر چکا ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں پاکستان نے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں بیلسٹک میزائل کے دو تجربات کیے تھے۔

عہدیدار اپنے بیانات میں یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان کا میزائل نظام ملکی دفاع کے لیے ہے۔

ماضی میں میزائل تجربات پاکستان اور اس کے روایتی حریف بھارت کے تعلقات میں تناؤ کا باعث بنتے رہے، لیکن دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان ایسے تجربات سے متعلق پیشگی اطلاع کا نظام وضع کیے جانے کے بعد اب یہ معمول کی کارروائی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی بھارت نے اگنی پانچ میزائل کا تجربہ کیا تھا۔

پاکستان میں اعلیٰ سیاسی و فوجی عہدیداروں کا دعویٰ رہا ہے کہ اُن کا ملک اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں تاہم ملک کے تحفظ کے لیے کم از کم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG