رسائی کے لنکس

پنجاب میں ٹیکسٹائل ورکرز کی ملازمتیں خطرے میں


ملک کو سالانہ حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا 57 فیصد ٹیکسٹائل کی برآمدات سے حاصل ہوتا ہے۔

ملک کو سالانہ حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا 57 فیصد ٹیکسٹائل کی برآمدات سے حاصل ہوتا ہے۔

توانائی کے بحران کی وجہ سے ٹیکسٹائل صنعت کی بندش ملک میں ایک کروڑ افراد کے روزگار کو متاثر کرے گی۔ اپٹما

پنجاب میں کپڑا بنانے والے کارخانوں کے مالکان نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے کارخانوں کو بجلی اور گیس کی ترسیل بحال نہ کی تو وہ جمعہ سے اپنی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدورں کو کام سے فارغ کرنا شروع کردیں گے۔

کارخانوں کے مالکان کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما) کے مرکزی نائب صدر وصال منوں نے بدھ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے سے براہ راست تقریباً ایک کروڑ افراد کا روزگار وابستہ ہے جبکہ صرف صوبہ پنجاب میں گزشتہ ایک ہفتے سے کپڑے بنانے کے کارخانے بجلی و گیس کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔

’’اگر آپ کی آمدن نہیں ہے تو آپ کب تک لوگوں کو ملازمت پر رکھ سکیں گے اور جب آپ انہیں نکالیں گے تو وہ روزگار نہ ہونے کی وجہ اور بھوک سے تنگ آکر سڑکوں پر آئیں گے۔‘‘
ان کا کہنا تھا پنجاب کا ٹیکسٹائل وہ واحد صنعت ہے جو اپنے بجلی اور گیس کے بلز بروقت اور باقاعدگی سے ادا کرتی ہے اور اس کے بند ہونے سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان ہوگا۔

ایپٹما کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کپڑا بنانے والی فیکٹریوں کی مجموعی تعداد کا 75 فیصد صوبہ پنجاب میں ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک کو سالانہ حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا 57 فیصد ٹیکسٹائل کی برآمدات سے حاصل ہوتا ہے۔

ایپٹما کے رہنماء وصال منوں کہتے ہیں کہ ٹیکسٹائل کے کارخانوں کی بجلی اور گیس کی بندش کے پیچھے حکومت کے وہ مشیر ہیں جو انہیں غلط رائے دے کر اس صنعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کہتے ملک کو درپیش توانائی کے بحران کے باعث چند صنعتوں کو توانائی کی فراہمی عارضی طور پر روک دی گئی ہے تاکہ عام صارفین کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

’’ان (صنعتکاروں) کے پاس اپنے پلانٹس ہیں مگر ڈیزل ہونے کی وجہ سے اس سے بجلی مہنگی حاصل ہوتی ہے اس لئے وہ حکومتی بجلی استعمال کرتے ہیں تو اگر کچھ دنوں یا ہفتوں کے لیے اگر وہ اپنے پلانٹس استعمال کرلیں تو قیامت تو نہیں آتی۔‘‘

ملک میں مسلسل بجلی کے بحران اور پیداوار پر اخراجات کم کرنے کے پیش نظر گزشتہ چند سالوں سے بیشتر صنعتکاروں نے اپنے کارخانے گیس پر منتقل کردیے ہیں جبکہ گاڑیوں میں بھی اب پیٹرول کی بجائے گیس کا استعمال کئی درجے بڑھ گیا ہے جوکہ حکومت کے بقول ملک میں توانائی کی قلت کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

حکومت کی جانب سے توانائی کے بحران پر کم عرصے میں قابو پانے کے لیے رینٹل پاور پلانٹس اور مائع گیس کی در آمد کے منصوبے کا آغاز کیا گیا مگر بدعنوانی کے الزامات کے باعث وہ منصوبے تاخیر کا شکار ہوگئے۔
XS
SM
MD
LG