رسائی کے لنکس

تنظیم کا کہنا ہے کہ بچوں کی زیادہ شرح اموات ایک بہت پرانا مسئلہ ہے جس کی وجہ بھوک نہیں ہے بلکہ یہ ان مسائل کا شاخسانہ ہے جن کا تواتر کے ساتھ کوئی حل نہیں ڈھونڈا گیا۔

پاکستان کی انسانی حقوق کی ایک موقر تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے جنوبی صوبہ سندھ کے تھر کے علاقے میں خشک سالی اور قحط کی وجہ سے بچوں کی اموات اور دوسرے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایچ آر سی پی کی ایک جائزہ ٹیم نے حال ہی میں تھر میں درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لیے علاقے کا دورہ کیا جس کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تھر کے عوام کو بڑے پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے اور اسپتالوں اور گھروں میں بچوں کی اموات اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بچوں کی زیادہ شرح اموات ایک بہت پرانا مسئلہ ہے جس کی وجہ بھوک نہیں ہے بلکہ یہ ان مسائل کا شاخسانہ ہے جن کا تواتر کے ساتھ کوئی حل نہیں ڈھونڈا گیا۔ ایچ آرسی پی کے مطابق اس میں خوراک کی کمی، صاف پانی کی عدم فراہمی، صحت و صفائی کا فقدان، خواتین میں تعلیم اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق کم عملی بھی شامل ہیں۔

مبصرین بھی یہ کہتے آئے ہیں کہ تھر کے مسائل کے دیر پا حل کے لیے یہاں مقامی حکومتوں کا ہونا ضروری ہے لیکن اس کی عدم موجودگی میں وسائل کی تقسیم اور دیگر بنیادی مسائل دور کرنے میں صوبائی حکومت کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوسکتی۔

لیکن صوبائی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تھر میں خوراک کی فراہمی سمیت صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی مناسب اقدامات کیے گئے ہیں لیکن ان کے بقول تھر کے عوام کو درپیش مسائل کا تعلق ان کے سماجی روئیوں سے ہے جن کا تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر اور حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک سرکردہ رہنما شہلا رضا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا۔

" جو چیزیں بد لنے کی ہیں کہ بارہ سال کی لڑکی کی شادی کیسے روکیں، ہر سال اس کے ہاں بچے کی پیدائش کو کیسے روکیں، مردو ں کو کام کی عادت کیسے ڈالی جائے۔۔۔ تو یہ جو سارے مسئلے ہیں بہت رکاوٹ کا باعث ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان کے ہاں جو بچوں کی پیدائش ہوتی ہے وہ اسپتال نہیں آتیں اور غیر تربیت یافتہ دائیاں جو سامان بلیڈ، قینچی استعمال کرتی ہیں اور جو زیادہ تر بچوں کی ہلاکت ہو رہی ہے وہ ان میں جراثیم پھیلنے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔"

ملک کے جنوبی صوبہ سندھ کے بارانی علاقے تھر میں گزشتہ تین سالوں سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے خواتین اور بچوں کو صحت کے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے۔

اس علاقے کے لوگوں کی گزر اوقات کا بڑا ذریعہ ان کے مال مویشی ہوتے ہیں اور اس خشک سالی سے بڑی تعداد میں جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا بھی کہنا ہے کہ تھر کی معیشت اور وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ناکافی ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG