رسائی کے لنکس

گزشتہ ستمبر میں پشاور کے قریب بڈھ بیر کے فضائی اڈے اور پھر بدھ کو باچا خان یونیورسٹی میں ہونے والے دہشت گرد حملے شدت پسندوں کی طرف سے بڑی کارروائیوں کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر نسبتاً آسان تصور کیے جانے والے ہدف پر حملہ کیا ہے جس سے 16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہوئے مہلک حملے کی یاد تازہ ہو گئی۔

پشاور سے ملحقہ شہر چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی میں لگ بھگ تین ہزار کے قریب طلبا اور تدریسی عملے کے لوگ بدھ کو درس و تدریس کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کر چکے تھے کہ شہر میں اتری دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد یہاں گھس آئے۔

فائرنگ اور دھماکوں سے وسیع رقبے پر پھیلی یونیورسٹی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یہاں موجود چند لوگوں نے ذرائع ابلاغ کو اس واقعے کے بارے میں اپنا اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ اچانک پیدا ہونے والی سنگین صورتحال سب کے لیے انتہائی پریشان کن تھی۔

ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے رجسٹرار کے دفتر پر حملہ کیا جہاں ان کا ایک لیکچرر حامد علی گولی لگنے سے جان کی بازی ہار گیا۔

"ہمارے ایک دوست نے بلڈنگ سے باہر کھیت میں چھلانگ لگا کر جان بچائی۔ دہشت گردوں نے پگڑیاں پہن رکھی تھیں اور ان کی لمبی لمبی داڑھیاں تھیں، وہ تکبیر کے نعرے بلند کر رہے تھے۔"

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ تین طرف سے فائرنگ ہو رہی تھی اور پھر پولیس بھی دہشت گردوں پر فائرنگ کر رہی تھی۔

"ہاسٹل نمبر ایک یونیورسٹی بلڈنگ کے سب سے آخر میں ہے وہاں سے بھی فائرنگ ہو رہی تھی، ایک دہشت گرد چھت پر بیٹھا تھا اور ایک دیوار کے ساتھ تھا۔"

ایک طالب علم نے بتایا کہ "پہلے جب فائرنگ کی آواز آئی تو ہم نے سوچا شاید کوئی جھگڑا ہوا ہے لیکن پھر فائرنگ زیادہ شروع ہو گئی ہم نے لڑکوں کو بولا کہ وہ کمروں سے باہر نہ نکلیں۔"

حملے کی خبر منظر عام پر آتے ہی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا کے والدین اور رشتے داروں نے یہاں کا رخ کیا اور وہ پریشانی کے عالم میں اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے بیتاب نظر آئے۔

گو کہ پاکستانی فوج اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے بعد یونیورسٹی کو کلیئر کر دیا لیکن اس سارے واقعے سے لوگوں میں ایک بار پھر خوف کی ویسی ہی لہر دوڑ گئی جیسی کہ ایک سال قبل آرمی پبلک اسکول پر حملے کے وقت پیدا ہوئی تھی۔

پاکستانی حکومت اور فوج کی طرف سے یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ دہشت گردوں کی "کمر توڑ دی گئی ہے اور اب وہ منظم انداز میں حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے"، لیکن گزشتہ ستمبر میں پشاور کے قریب بڈھ بیر کے فضائی اڈے اور پھر بدھ کو باچا خان یونیورسٹی میں ہونے والے دہشت گرد حملے شدت پسندوں کی طرف سے بڑی کارروائیوں کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور اس کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مختلف اوقات میں یہ خبریں بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں کہ خیبر پختونخواہ اور خصوصاً پشاور میں تعلیمی اداروں کو دہشت گردی کے حملے کا خطرہ ہے اور اسی بنا پر ایک روز کچھ دیر کے لیے اسکول بند بھی کر دیے گئے تھے۔

اسی دوران ایک بار پھر مقامی ٹی وی چینلز پر باچا خان یونیورسٹی کے حملے کی کوریج پر بھی "غیر ذمہ داری" کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کی جس انداز میں کوریج کی گئی اس پر ملک میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے (پیمرا) کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کرنا پڑی۔

پیمرا نے ٹی وی چینلز سے کہا کہ وہ طلبا کا محل وقوع اور سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت سے متعلق خبریں نشر کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ معلومات دہشت گردوں کے لیے معاون ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG