رسائی کے لنکس

سنا ہے سات سمندر پار رہنے والے لوگ محض اس ڈر سے فون نہیں اٹھاتے کہ انہیں ۔۔کال ریسو کرنے کے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں۔ پھر وہاں پرائیویسی ڈسٹرب نہ ہو، اس کا بھی بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں۔۔۔کیا حال ہے ذرا ملاخطہ کیجئے۔

پاکستان موبائل فون استعمال کرنے والے بیشتر ’منچلوں کی جنت‘ ہے۔ سستے ترین پیکیجز، مفت پیکیجز، کمپنی ٹو کمپنی فری کالز، چند روپوں میں ہزاروں میسج، بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ سنے ’مس کال‘ کے اشارے، مفت نائٹ پیکیجز، دن میں کئی کئی گھنٹے بغیر کسی خرچ کے بات چیت ۔۔۔وغیرہ ۔۔وغیرہ۔۔۔یہ سب وہ سہولتیں ہیں جو شاید دنیا کے کسی اور کونے میں دستیاب نہیں۔۔۔اور اگر ہوں گی تو شاید مفت میں نہیں۔

سنا ہے سات سمندر پار رہنے والے لوگ محض اس ڈر سے فون نہیں اٹھاتے کہ انہیں ۔۔کال ریسو کرنے کے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں۔ ۔۔پھر وہاں پرائیویسی ڈسٹرب نہ ہو اس کا بھی بہت خیال رکھا جاتا ہے مگر ہمارے یہاں۔۔۔کیا حال ہے ذرا ملاخطہ کیجئے۔

کل ہی کی بات ہے محلے سے گزرتے ہوئے ایک پڑوسن کے الفاظ میرے کانوں میں پڑے۔ وہ دوسری پڑوسن سے پوچھ رہی تھی ’اور۔۔۔اب تو بچوں کی بھی چھٹیاں ہوگئیں۔۔خالی وقت میں کیا کرتی ہو؟ ۔۔جواب ملا ’کچھ نہیں۔۔۔دن بھر میں دو چار ہی تو گھنٹے ملتے ہیں فرصت کے، وہ بھی موبائل پر بات کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔۔۔‘

ہماری ایک عزیزہ کا حال یہ ہے کہ شام ہوتے ہی وہ موبائل سنبھال کر بیٹھ جاتی ہیں ۔۔۔انہیں اپنا ’ڈیلی ایس ایم ایس پیکیج‘ استعمال کرنا ہوتا ہے جس میں کبھی سینکڑوں تو کبھی ہزاروں ٹیکسٹس فون کمپنی کی طرف سے’فری‘ ملتے ہیں۔ایسے میں جو ’فری ٹاک‘ ہوتی ہے وہ واقعی بالکل ہی ’فری‘ ہوتی ہے جیسے:

’آج کیا پکایا تھا، تم نے کیا کھایا، ماموں کے بیٹے کی شادی میں کیسے کپڑے پہنوں گی، گڈو کے ابو کل آفس سے دیر سے آئے تھے، دو دن سے پانی نہیں آیا، کم بخت یہ لوڈ شیڈنگ ۔۔چھوٹی خالہ نے پپو کا رشتہ کیوں ٹھکرادیا۔۔ میں تو پہلے ہی کہتی تھی۔۔دو دن گھر بسالے تو مان جاوٴں گی۔۔ شوہر کو کوئی ایسے بھی آزاد نہیں چھوڑتا۔۔دوپٹے پر ’پیکو‘ کرالی۔۔ وہ تو ہے ہی ایسی ۔۔۔پہلے نہیں دیکھا تھا انوری آپا کے یہاں کیسے بن ڈھن کر آئی تھی۔۔۔شرط لگا لو ۔۔۔یہ تو ہوہی نہیں سکتا ۔۔۔میں تو ہوں بدنام۔۔اب دیکھوں گی اماں بی کیا کرتی ہیں۔۔۔‘

گزشتہ ویک اینڈ پر تو غضب ہی ہوگیا۔۔۔گھر آیا تو بیگم کو اپنی چھوٹی بہن سے فون پر بات کرتے پایا، بچی نے بتایا ’نسیمہ خالہ۔۔کوفتہ بریانی بنانے کی ریسیپی پوچھ رہی ہیں۔۔۔‘گفتگو میں ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر گیا۔۔۔اللہ اللہ کرکے فون بند ہوا توغیر ارادی طور پرخود ہی یہ پوچھ کر شامت اعمال کو دعوت دے بیٹھا کہ اتنی دیر سے کیا باتیں کررہی تھیں۔۔بیگم کا موڈ کچھ اچھا تھا مسکرا کر بولیں’کچھ بھی نہیں ۔۔ایسے ہی خیر خیریت پوچھ رہی تھی۔ جلدی میں تھی بیچاری ۔۔اس کے یہاں مہمان آنے والے ہیں۔۔‘

خاندان میں ’پتا کھڑکے‘ یا کسی کا ’دل دھڑکے‘ موبائل کی بدولت اس کی خبر ۔۔۔سینہ بہ سینہ چل کر لمحے بھر میں ’عام‘ ہوجاتی ہے۔ خواتین کی بات چھوڑ ہی دیجئے مردوں کا بھی یہ حال ہے کہ ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے بھی بیچ سڑک میں۔۔دوسرے ہاتھ سے ایس ایم ایس کرنا نہیں بھولتے۔

ایک صاحب کا تو حال اس سے بڑھ کر تھا۔سر پر ہیلمٹ چڑھا تھا، راستے میں ہی تھے کہ کسی کی کال آگئی۔ پہلے ہیلمٹ تھوڑا سا سرکایا، پھر بائیں ہاتھ سے ہی موبائل جیب سے نکالا، بائیک چلاتے رہے اور۔۔کئی منٹ تک ’ہوں۔۔ہوں۔۔ہوں۔۔ہوں۔۔“کرتے رہے پھر رہا نہیں گیا تو بائیک سڑک کے کنارے لگائی، ہیلمٹ ہٹایا، سفید رنگ کی چمچماتی بغلی دیوار پر پوری طاقت سے پان کی پیک پچکاری کی طرح دے ماری ۔۔۔پھر بولے ’اماں یارررر۔۔۔اتنی سی بات کے لئے پان کا مزا خراب کردیا۔۔۔مس کال کردیتے میں سمجھ جاتا۔‘

پچھلے ہفتے ایک اور مشاہدہ ہوا۔ نارتھ ناظم آباد کے ایک اسپتال کے بیسمنٹ میں واقع اوپی ڈی ہال میں ڈاکٹر رومز کے سامنے انتظار میں کم ازکم 100افراد بیٹھے تھے اور ان میں سے50فیصد سے زیادہ موبائل فونز پر بزی تھے۔ کچھ گیمز کھیل رہے تھے۔ کچھ گپوں میں مصروف تھے۔ کچھ ایس ایم ایس میں لگے تھے ۔۔۔گویا اب موبائل انتظار کی گھڑیاں ’چین سے گزارنے‘ کا بھی ’بڑا سبب‘ ہیں۔

بڑے تو بڑے چھوٹے میاں سبحان اللہ ۔۔کے مصداق آج کل تو کہیں مہمان بھی بن کر جائیں تو میزبان کے بچے کان میں آکر تھوڑی دیر کے لئے موبائل مانگ لیتے ہیں ۔۔انہیں نئے نئے ویڈیو گیمز کھیلنا ہوتے ہیں اور اپنے والدین کے موبائلزپر موجود گیمز کھیل کھیل کر وہ بور ہوچکے ہوتے ہیں۔ ۔۔اس لئے انہیں قریبی مہمانوں کا انتظار رہتا ہے تاکہ فون مانگ سکیں۔۔۔

اب تو عالم یہ ہے کہ ٹرین میں رات کے سفر میں جب سارے مسافر سو رہے ہوں تو بھی آپ کو کم ازکم ایک دو نوجوان ایسے ضرور مل جائیں گے جو فون پر رات گزارنے کے عادی ہوں۔۔ سال بھر پہلے کراچی سے راولپنڈی تک سفر کے دوران ایک نوجوان یہی کرتا دکھائی دیا۔۔۔اور صبح ہوئی تو میرے پاس آکر بولا ’انکل کیا میں آپ کی برتھ پر سو جاوٴں؟رات بھر کا تھکاہوا ہوں۔۔‘ میں نے پوچھا رات میں کیوں نہیں سوئے تو جھٹ سے بولا ’نائٹ پیکیج لیا ہوا تھا ۔۔اگر سوجاتا تو پیسے اور پیکیج دونوں ضائع ہوجاتے۔۔‘

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG