رسائی کے لنکس

لکھوی 'نظر بند'، ضمانت کی منظوری کے خلاف اپیل کا فیصلہ


ذکی الرحمن لکھوی (فائل فوٹو)

ذکی الرحمن لکھوی (فائل فوٹو)

وکیل استغاثہ چودھری اظہر کا کہنا ہے کہ حکومت لکھوی کی ضمانت کے حکم کے خلاف اپیل کرے گی۔ "ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔"

ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمٰن لکھوی کو دوبارہ حراست میں لے کر نظر بند کر دیا ہے۔ جمعرات ہی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔

سرکاری وکیل چودھری اظہر کے مطابق ملزم کو نقص امن کے خدشے کے قانون "16 ایم پی او" کے تحت تحویل میں لیا گیا۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت منظور ہونے پر بھارت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان سے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وکیل استغاثہ چودھری اظہر کا کہنا ہے کہ حکومت لکھوی کی ضمانت کے حکم کے خلاف اپیل کرے گی۔

"ہم پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔"

جمعرات کو ذکی الرحمٰن لکھوی کے وکیل رضوان عباسی نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی نے دفاع اور استغاثہ کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ذکی الرحمٰن لکھوی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پانچ، پانچ لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔

اُنھوں نے بتایا مچلکے جمع کروانے کے بعد ذکی الرحمٰن لکھوی ضمانت پر رہا ہو سکیں گے۔ تاہم استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کر سکتی ہے۔

رضوان عباسی کا موقف تھا کہ اُن کے موکل پانچ سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ہیں تاہم ان کے بقول ذکی الرحمٰن کے خلاف ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے کافی شواہد نہیں ہیں۔

بھارت نے 26 نومبر 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کی تھی۔

پاکستان نے حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمٰن لکھوی سمیت سات افراد کو حراست میں لے کر اُن کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کر دی ان افراد کو تاحال عدالت کی طرف سے سزائیں نہیں سنائی گئی ہیں۔

ممبئی حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ اجمل قصاب نامی ایک مبینہ پاکستانی حملہ آور کو بھارتی پولیس نے زندہ پکڑا تھا۔ اجمل قصاب کو ممبئی کی ایک عدالت نے موت کی سزا دی تھی جس پر نومبر 2012ء میں عمل درآمد کیا گیا۔

لکھوی کی درخواست ضمانت کی منظوری ایک ایسے وقت ہوئی جب جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG