رسائی کے لنکس

ایگزیکٹ اسکینڈل: ایف بی آئی اور انٹرپول سے رابطے کا فیصلہ


وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان

وفاقی وزیر نے کہا کہ حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں برطانیہ میں بھی متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جائے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جعلی ڈگریوں کی مبینہ فراہمی سے متعلق زیر تفتیش سافٹ ویئر کمپنی "ایگزیکٹ" کے بارے میں اب تک کی تحقیقات میں ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جن کے لیے امریکی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" اور بین الاقوامی پولیس یعنی انٹرپول سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے دفاتر سے قبضے میں لیے گئے آلات کی جانچ اور کمپنی کے کارکنوں سے تفتیش جاری ہے اور آئندہ دس روز میں اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا جائےگا۔

"کچھ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں جس کی وضاحت کے لیے آئندہ دو روز میں امریکی ایجنسی ’ایف بی آئی‘ کو خط لکھ رہے ہیں تاکہ امریکہ میں جو کچھ ہوا ہے، یا جو شواہد سامنے آئے ہیں، وہ اس میں قانونی امداد فراہم کرے۔ اس کے علاوہ ہم انٹرپول سے بھی رابطہ کر رہے ہیں کیونکہ خاص طور پر جو یونیورسٹیاں سامنے آئی ہیں، ان کے حوالے سے ہمیں کچھ معلومات انٹرپول سی مل سکتی ہے۔"

وفاقی وزیر نے کہا کہ حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں برطانیہ میں بھی متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جائے اور ان کے بقول اس تحقیقات کو بغیر کسی دباؤ کے مکمل شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستانی سافٹ ویئر کمپنی "ایگزیکٹ" دنیا بھر میں مبینہ طور پر جعلی تعلیمی اسناد فروخت کرتی ہے اور اس طرح اس نے لاکھوں ڈالر کمائے ہیں۔

اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی وزیرداخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف آئی اے" کو تفتیش کا حکم دیا جس نے رواں ہفتے اس کمپنی کے راولپنڈی اور کراچی میں واقع دفاتر پر چھاپے مارے اور وہاں سے درجنوں کمپیوٹرز کو قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

ایگزیکٹ کمپنی نیویارک ٹائمز کی خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

بعض حلقوں کی جانب سے حکومت پر یہ کہہ کر بھی تنقید کی جارہی تھی کہ اس نے یہ تفتیش ایک خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد شروع کی جب کہ اسے پہلے ہی ایسے عناصر پر نظر رکھنی چاہیے تھی۔

اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا۔

"بہت ساری ڈگریاں امریکی، برطانوی اور عرب شہریوں کو دی گئیں، مشرقِ وسطیٰ میں بہت سی ڈگریاں دی گئیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ امریکہ سے ڈائریکٹ ہو کر بہت سی چیزیں یہاں آئیں، بہت سی جعلی ڈگریاں اب بھی وہاں استعمال ہو رہی ہیں، امریکہ والے سوئے رہے، برطانیہ والے سوئے رہے، متحدہ عرب امارات والے سوئے رہے۔ جب بھی یہ معاملہ ہمارے نوٹس میں آیا، ہم نے اس پر ایکشن لیا۔"

ایف آئی اے نے اس کمپنی کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی کے لیے بھی عدالت سے اجازت حاصل کر لی ہے۔

وفاقی وزیر کے بقول اس معاملے میں رقوم کی غیر قانونی طور پر منتقلی کے بارے میں بھی تفتیش کی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG