رسائی کے لنکس

افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس

  • عشرت سلیم

افغان مہاجرین پشاور میں اقوام متحدہ کے ایک مرکز کے باہر بیٹھے ہیں۔ فائل فوٹو

افغان مہاجرین پشاور میں اقوام متحدہ کے ایک مرکز کے باہر بیٹھے ہیں۔ فائل فوٹو

وزیراعظم کی ہدایت پر ایک بین الوزارتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ افغان حکومت اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور دیگر شراکت داروں کی مشاورت سے مہاجرین کی واپسی کے لیے ایک قابل عمل حکمت عملی تشکیل دے۔

افغان مہاجرین کی تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک میزبانی کے بعد پاکستان کی حکومت طرف سے انہیں وطن واپس بھیجنے کی کوششوں میں بظاہر تیزی آئی ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور وزیر برائے سرحدی امور ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں مہاجرین کی واپسی کے عمل کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس اقدام پر غور کے لیے افغان حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے فوری رابطوں پر اتفاق کیا گیا۔

اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ دوطرفہ سیاسی اور سفارتی سطحوں پر افغان حکومت سے رابطے کرے گی جبکہ وزارت برائے سرحدی امور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور افغان وزارت برائے مہاجرین سے رابطے کرے گی تاکہ پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کو بتدریج افغانستان کے نسبتاً پر امن علاقوں میں نئی آبادیاں قائم کر کے منتقل کیا جا سکے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر ایک بین الوزارتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ افغان حکومت اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور دیگر شراکت داروں کی مشاورت سے مہاجرین کی واپسی کے لیے ایک قابل عمل حکمت عملی تشکیل دے۔

یہ کمیٹی واپسی کے عمل کی باقاعدہ نگرانی کے علاوہ ماہانہ بنیادوں پر اپنی رپورٹ بھی پیش کرے گی۔

یاد رہے کہ افغان مہاجرین سے متعلق سہ فریقی کمیشن کا اجلاس 19 جولائی کو متوقع ہے جس میں پاکستان، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین اور افغان وزارت برائے مہاجرین کے حکام باضابطہ طور پر پاکستان سے افغان شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کریں گے۔

پاکستان کی حکومت نے ایک روز قبل ہی بدھ کو جہاں اندارج شدہ افغان مہاجرین کے ملک میں قیام کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کا اعلان کیا وہیں پشاور میں لگ بھگ 2,000 غیر اندراج شدہ مہاجرین کی گرفتاریوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

ان کے قیام کی مدت جمعرات 30 جون کو ختم ہونا تھی۔

اسلام آباد میں جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی برادری کو ملک واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آباد کاری میں افغان حکومت کی مدد کرنی چاہیئے۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے دورہ پاکستان کے دوران ادارے کی طرف سے وطن واپس جانے والے افغان مہاجرین کی فی کس گرانٹ کو 200 ڈالر سے بڑھا کر 400 ڈالر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے مہاجرین کی واپس جانے کے لیے حوصلہ افزائی ہو گی تاہم ساتھ ساتھ افغانستان میں بنیادی ڈھانچے میں ترقی اور صحت، تعلیم اور پانی کی سہولتوں کے علاوہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ اس عمل کو مستقبل بنیادوں پر برقرار رکھا جا سکے۔

پاکستان کے مختلف حصوں میں 15 لاکھ کے قریب غیراندارج شدہ جبکہ اتنی ہی تعداد میں اندراج شدہ افغان مہاجرین آباد ہیں۔

پاکستانی حکام خصوصاً خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے ملک کی حالیہ سیاسی، سماجی و اقتصادی اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

تاہم افغانستان میں سکیورٹی اور اقتصادی حالات خراب ہونے کے باعث افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس سال اب تک صرف چھ ہزار مہاجرین واپس افغانستان گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں واپس جانے والوں کی تعداد 60,000 تھی۔

پاکستانی حکام کی طرف سے وطن واپس جانے والے مہاجرین کو افغان معاشرے میں ضم کرنے کے لیے بھرپور کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔

تاہم افغان حکام یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک کی مخدوش سکیورٹی اور اقتصادی صورتحال کے باعث اتنی بڑی تعداد میں واپس آنے والے مہاجرین کی آبادکاری اس وقت ممکن نہیں۔

XS
SM
MD
LG