رسائی کے لنکس

اطلاعات کے مطابق عدالت عظمٰی نے یہ پانچوں نام وزارت قانون کو بجھواتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان میں سے تین ججوں کا انتخاب کر کے خود ہی خصوصی عدالت تشکیل دے۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کی تشکیل کے سلسلے میں سپریم کورٹ کو ماتحت عدالتوں سے پانچ ججوں کے نام موصول ہو گئے ہیں۔

وفاقی حکومت کی طرف سے پیر کو عدالت عظمیٰ کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کے لیے سپریم کورٹ تین جج نامزد کرے تاکہ خصوصی عدالت تشکیل دی جا سکے۔

اس خط کے جواب میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد اور چاروں صوبوں کی اعلٰی عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان سے کہا تھا کہ وہ ایک، ایک جج کا نام تجویز کریں، جس پر اُنھوں نے منگل کو یہ نام عدالت عظمٰی کو بجھوا دیے۔

ان ناموں میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس یاور علی، پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس یحیٰی آفریدی، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس فیصل عرب، بلوچستان ہائی کورٹ کی جسٹس طاہرہ صفدر اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نور الحق قریشی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عدالت عظمٰی نے یہ پانچوں نام وزارت قانون کو بجھواتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان میں سے تین ججوں کا انتخاب کر کے خود ہی خصوصی عدالت تشکیل دے۔


خصوصی عدالت کی تشکیل کے بعد پرویز مشرف کے خلاف غداری سے متعلق مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو گا۔

وفاقی حکومت پہلے ہی ذوالفقار عباس کو مقدمے کے لیے سپیشل پراسکیوٹر مقرر کر چکی ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر 2007ء کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آئین کو معطل کر دیا تھا جب کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلٰی عدلیہ کے 60ججوں کو مبینہ طور پر اُن کے گھروں میں نظر بند بھی کر دیا گیا۔

ججوں کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ 3 نومبر کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اپنے ایک فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ سابق صدر کے یہ اقدامات غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔

اسلام آباد میں منگل کو وکلا کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے صحافیوں سے گفتگو میں اس تاثر کو مسترد کیا کہ اس غیر معمولی مقدمے کی جانب پیش رفت کا فیصلہ سفارتی اور سلامتی سے متعلق اُمور پر حکومت کے خلاف جاری تنقید سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

’’اگر چند دن کے لیے اور صبر کرتے تو مشرف ملک سے باہر چلا گیا ہوتا ... تو یہ (فیصلہ) اپنے وقت پر ہوا اور ٹھیک ہوا۔‘‘

اُنھوں نے اس مقدمے کے بارے میں مزید تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا۔

’’ہم نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے، اب ان تحقیقات کی روشنی میں عدالت اور قانون اپنا راستہ خود اختیار کریں گے۔‘‘
XS
SM
MD
LG