رسائی کے لنکس

وزیر دفاع کے خلاف انتخابی دھاندلی کی درخواست مسترد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

عثمان ڈار نے اس مبینہ دھاندلی کی شکایت پہلے الیکشن ٹربیونل میں دائر کی تھی اور ٹربیونل کی طرف سے بھی اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف انتخابات میں دھاندلی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

یہ درخواست حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے عثمان ڈار نے دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کے حریف خواجہ آصف نے مئی 2013ء کے عام انتخابات میں سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 110 میں مبینہ طور پر دھاندلی کے ذریعے کامیابی حاصل کی تھی۔

جمعرات کو عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں اس درخواست کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا ریکارڈ رکھنا الیکشن کمیشن کا فرض ہے۔

خواجہ آصف کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انھوں نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ 227 حلقوں کے "(ووٹوں کے) تھیلے بھی بھجوا دیے گئے اور نادرا نے اپنی رپورٹ میں بھیجیں اور اس سے پتا چلا کہ مواد کے اعتبار سے انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی۔"

ان کے بقول اگر "(فرض کریں) متنازع ووٹ کو منہا بھی کر دیا جائے تو بھی خواجہ آصف نے (حریف کے مقابلے میں) 16 ہزار زائد ووٹ حاصل کیے۔"

عثمان ڈار نے اس مبینہ دھاندلی کی شکایت پہلے الیکشن ٹربیونل میں دائر کی تھی اور ٹربیونل کی طرف سے بھی اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

تحریک انصاف حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) پر عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتی رہی ہے اور اس نے خاص طور پر قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں اپنے حریف امیدواروں کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا۔

دیگر تین حلقوں کے فیصلے پہلے ہی ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG