رسائی کے لنکس

چیف جسٹس نے موقع پر موجود ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا جنہوں نے وہاں ہوتے بھی اس واقعے کو رونما ہونے سے روکنے کی کوشش نہیں کی۔

پاکستان کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلاںی نے لاہور میں ہائی کورٹ کی عمارت کے باہر 25 سالہ حاملہ خاتون کو سرعام قتل کرنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کے صوبائی پولیس سربراہ کو 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ سے جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ فرزانہ کے قتل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

قتل ہونے والی خاتون کے شوہر محمد اقبال نے اپنے حالیہ بیانات میں الزام لگایا تھا کہ پولیس موقع پر موجود تھی لیکن وہ مدد کو نا پہنچی۔ انہی اطلاعات پر سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا کہ وہ پولیس اہلکار جن کے سامنے یہ سب کچھ ہوا اور وہ خاموش رہے اُن کے خلاف بھی اس جرم میں معاونت کے الزام میں کارروائی کی جائے۔

تاہم لاہور کے علاقے سول لائینز ایریا کے سپریٹنڈنٹ پولیس عمر چیمہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فرزانہ پر سات بج کر پینتالیس منٹ پر حملہ کیا گیا اور اُن کے بقول اس وقت وہاں پولیس افسر موجود نہیں تھے۔

’’ہماری طرف سے یہ ہے کہ موقع پر پولیس افسر موجود نہیں تھے، لیکن واقعہ کے پانچ منٹ بعد وہ وہاں پہنچ گئے۔ ہماری اب تک تفتیش کے مطابق یہ پورا واقعہ ایک سے دو منٹ میں ہوا۔‘‘

لڑکی کے اس قتل کے واقعے کی ملک بھر میں مذمت کی گئی، حقوق نسواں کی سرگرم کارکن فرزانہ باری کہتی ہیں کہ اس واقعہ میں ملوث تمام افراد کو جلد از جلد انصاف کے کہٹرے میں لایا جائے۔

’’جن بندوں نے یہ ظلم کیا، اُن سب کو پکڑا جائے۔ یہ کیس ایسا ہے کہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں اُس کا قتل ہوا، اس کیس کا چند ہفتوں میں فیصلہ کر کے مثال بنانی چاہیئے۔‘‘

لاہور پولیس کے مطابق قتل میں ملوث مزید چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں قتل کی گئی فرزانہ کے ایک ماموں اور دو کزن بھی شامل ہیں۔ سپریٹنڈنٹ پولیس عمر چیمہ کے مطابق اب تک کل پانچ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

اُدھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ 24 گھنٹوں میں فرزانہ کے قتل میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جائے۔

اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی۔

فیصل آباد کی تحصیل جڑانولہ سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ فرزانہ کو منگل کو لاہور ہائی کورٹ کے باہر اُس کے والد سمیت خاندان کے دیگر افراد نے اینٹوں سے حملہ کر کے قتل کر دیا تھا۔

پسند کی شادی پر فرزانہ کے اہل خاندان اُن سے نالاں تھے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے اپنے شوہر کے خلاف دائر اغوا کا مقدمہ خارج کروانے کے لیے جب وہ لاہور ہائی کورٹ پہنچیں تو پہلے سے گھات لگائے اُس کے رشتہ داروں نے یہ حملہ کیا۔
XS
SM
MD
LG