رسائی کے لنکس

خواتین کی مبینہ اسمگلنگ کے واقعات پر چیف جسٹس کا نوٹس


فائل فوٹو

مقامی میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ان خواتین کو اغوا کرنے کے بعد انہیں جنسی غلامی کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس نے اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں خواتین کی مبینہ اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی اطلاعات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب اور وفاقی دارالحکومت کے پولیس حکام سے تین دن کے اندر رپورٹ طلب کی ہے۔

مقامی میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ان خواتین کو اغوا کرنے کے بعد انہیں جنسی غلامی کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے راولپینڈی شہر کی ایک شادی شدہ خاتون کے مبینہ اغوا اور بعد ازاں اسے افغانستان اسمگل کرنے کے واقعہ کے بارے میں سامنے آنے والی خبر کا ازخود نوٹس لیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک 40 سالہ خاتون جو تین بچوں کی ماں ہے، کو بعض افراد نے اغوا کرنے کے بعد افغانستان میں ایک شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔ خاتون کے شوہر نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اخیتار کیا کہ اس کو اغوا کرنے والے افراد اب اس کی رہائی کے تین لاکھ روپے کا تاوان طلب کر رہے ہیں۔

دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو بازیاب کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جلد ہی ان افراد کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا اس واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

مقامی میڈیا میں سامنے والے اطلاعات میں مزید بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے خواتین کو اغوا کر کے انہیں افغانستان لے جانے والا ایک گروہ کافی عرصے سے سرگرم ہے جو اب تک متعدد خواتین کو مغوی بنا کر اُنھیں مبینہ طور پر جنسی غلامی کے لیے فروخت کر چکا ہے۔

خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور معروف وکیل ضیا احمد اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے کہا کہ خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ کے واقعات نا صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ملکوں میں اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں جو ان کے بقول نہایت تشویشناک امر ہے۔

"یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں پاکستان تنہا کچھ نہیں کر سکتا ہے اگر وہ اسے افغانستان لے گئے ہیں تو باہمی بنیادوں پر ایسا ہو کہ وہاں کی سپریم کورٹ اور پولیس اس کا نوٹس لے اور کوئی ایسا طریقہ کار ہمسایہ ممالک کے درمیان وضع کیا جاسکے تاکہ ایسی خواتین کو بازیاب کرایا جا سکے۔"

ضیا اعوان نے کہا کہ اگرچہ ان واقعات کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں تاہم ایسے واقعات بڑے پیمانے پر رونما ہو رہے ہیں۔

"ہم یہ جانتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر یہ واقعات رونما ہو رہے ہیں، خواتین کو اغوا کر انہیں سے زبردستی جسم فروشی کرواتے ہیں۔۔۔۔یہ ایک ایسا کام بن گیا ہے جو نہایت تشویشناک ہے۔"

ضیا اعوان نے کہا ایسے معاملات کے لیے قانون تو موجود ہیں تاہم ان واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی بروقت کارروائی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG