رسائی کے لنکس

پاناما لیکس معاملہ، پاکستان بار کونسل نے بھی ضابطہ کار مسترد کر دیا


وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اگر مناسب ضابطہ کار سامنے نہیں آتا تو عدالت عظمیٰ خود ضابطہ کار وضع کر کے بھی تحقیقات کا آغاز کروا سکتی ہے۔

پاناما لیکس کے معاملے پر جہاں حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف تنقید اور دباؤ میں اضافہ کرتی آرہی ہیں وہیں ملک میں وکلا کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم "پاکستان بار کونسل" نے بھی اس معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کی طرف سے تجویز کردہ ضابطہ کار کو مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان بار کونسل کے اسلام آباد میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر ضابطہ کار طے کریں بصورت دیگر کونسل سپریم کورٹ سے اس معاملے پر از خود نوٹس لینے کی سفارش کرے گی۔

وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ ماہ پاناما پیپرز میں اپنے بچوں کے نام آف شور کمپنیاں رکھنے کی معلومات سامنے آنے کے بعد حزب مخالف کے مطالبے پر اس کی تحقیقات سپریم کورٹ کے ذریعے کمیشن سے کروانے پر رضا مندی ظاہر کی تھی اور حکومت نے اس کمیشن کے مجوزہ ضابطہ کار میں سیاستدانوں سمیت آف شور کمپنیاں رکھنے، غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک رقم منتقل کرنے اور قرضے معاف کروانے والے تمام پاکستانیوں کی تحقیقات کا کہا۔

تاہم حزب مخالف نے اس ضابطہ کار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں حکومت نے اس سے مشورہ نہیں کیا اور اس ضابطہ کار کے تحت پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین بیرسٹر فروغ نسیم نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کے مجوزہ ضابطہ کار کا دائرہ موجودہ معاملے کی تحقیقات کے لیے موزوں نہیں۔

"بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1956ء کا سیکشن 131 ہے اس میں لکھا ہے کہ جب عوامی مفاد کا کوئی قطعی معاملہ ہوگا تو اس کی تحقیقات ہو گی اب قطعی کا مطلب یہ نہیں ہے جیسے اس ضابطہ کار میں لکھ دیا گیا ہے کہ ان تمام پاکستانی شہریوں کی جن کا نام پاناما لیکس میں آیا ہے سب کی تحقیقات کی جائے۔"

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی درخواست کو از خود نوٹس میں تبدیل کر سکتی ہے اور اگر مناسب ضابطہ کار سامنے نہیں آتا تو عدالت عظمیٰ خود ضابطہ کار وضع کر کے بھی تحقیقات کا آغاز کروا سکتی ہے۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ فی الوقت ملک کے وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں جو الزامات سامنے آئے ہیں ان کی تحقیقات ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر قانون سازوں سے بھی تحقیقات کی جانی چاہیئں۔

"اصل مقصد ہے وزیراعظم یا ان کے بچے یا کوئی بھی قانون ساز چاہے پیپلزپارٹی والے ہوں، ایم کیو ایم والے ہوں، پی ٹی آئی والے ہوں ہر ایک کی انکوائری کر کے فیصلہ صادر کر دیا جائے لیکن آغاز وزیراعظم سے کیا جائے۔"

وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ایک روز قبل ہی یہ بیان سامنے آیا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اگر چاہیں تو وہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے ضابطہ کار کو تبدیل کر سکتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں بننے والے کمیشن سے مکمل تعاون کریں گے۔

ادھر حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف اتوار کو لاہور میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی بدعنوانی کے خلاف ان کی تحریک جاری رہے گی۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے بعد ملک میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے بھی پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

لیکن وزیراعظم سمیت حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس میں نواز شریف کا نہیں بلکہ ان کے بچوں کا نام آیا ہے اور حزب مخالف احتجاج کی سیاست کی بجائے معاملے کی تحقیقات ہونے دے۔

حزب مخالف کی جماعتیں پیر کو ایک اجلاس بھی منعقد کر رہی ہیں جس میں اپنی طرف سے ضابطہ کار تشکیل دینے پر مشاورت کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG