رسائی کے لنکس

پاناما لیکس تحقیقات، تاحال متفقہ ضابطہ کار طے نہیں ہو سکے


پارلیمانی کمیٹی کو دو ہفتوں کا وقت دیا گیا تھا

پارلیمانی کمیٹی کو دو ہفتوں کا وقت دیا گیا تھا

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو ضابطہ کار تجویز کیے وہ انکوائری کمیشن ایکٹ 1956ء جیسے ہی تھے جو کہ حزب مخالف کے لیے اس معاملے میں قابل قبول نہیں۔

پاناما لیکس میں پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کے بچوں کے نام آف شور کمپنیاں رکھنے کے معاملے کو منظر عام پر آئے دو ماہ ہو چلے ہیں اور اس کی تحقیقات کا معاملہ ہنوز کسی پیش رفت کے بغیر تعطل کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

حکومت اور حزب مخالف کے چھ، چھ ارکان پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی جسے گزشتہ ماہ دو ہفتوں میں معاملے کی تحقیقات کے کمیشن کے لیے ضابطہ کار وضع کرنے کا کام سونپا گیا تھا، تاحال مختلف اجلاسوں کے بعد بھی کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

دونوں جانب سے ایک دوسرے پر اس معاملے پر سیاست کرنے اور غیر سنجیدہ رویہ اپنانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

رواں ہفتے کمیٹی کے آخری اجلاس میں حکومت کے پیش کردہ ضابطہ کار پر حزب مخالف کے ارکان نے اپنا جواب پیش کیا تھا لیکن یہ مشاورتی سلسلہ بھی بے نتیجہ ثابت ہوا اور آئندہ منگل کو کمیٹی کی ایک اور ملاقات طے کر دی گئی ہے۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی اور حکومت کی سب سے بڑی ناقد جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حزب مخالف نے ضابطہ کار کی تیاری پر ممکنہ حد تک لچک کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ان کے بقول حکومت سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو ضابطہ کار تجویز کیے وہ انکوائری کمیشن ایکٹ 1956ء جیسے ہی تھے جو کہ حزب مخالف کے لیے اس معاملے میں قابل قبول نہیں۔

حکومتی ارکان بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے عزم پر قائم ہیں لیکن ان کے بقول حزب مخالف اس معاملے کو صرف وزیراعظم نوازشریف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتی آرہی ہے۔

پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد وزیراعظم نے اس کی تحقیقات کے لیے سابق جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اپوزیشن نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم نے اس ضمن میں چیف جسٹس کو خط لکھا اور حکومت کی طرف سے تحقیقات کے لیے ایک ضابطہ کار بھی تجویز کیا گیا جس میں پاناما کے علاوہ دنیا میں کسی بھی جگہ آف شور کمپنیاں رکھنے والوں، بینکوں سے قرضے معاف کروانے والوں اور بدعنوانی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے والوں کی تحقیقات کا کہا گیا۔

تاہم سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اس ضابطہ کار کے تحت تحقیقات بہت طویل ہو جائیں گی۔

بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کو ضابطہ کار تجویز کرنے کا کہا گیا تھا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ضابطہ کار تجویز ہونے کے بعد ہی کمیشن کے قیام کا مرحلہ آئے گا۔

XS
SM
MD
LG