رسائی کے لنکس

بھارتی گندم کی پاکستان کے راستے افغانستان ترسیل

  • یاسر منصوری

پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے ’’انسانی ہمدردی کی بنیادوں‘‘ پر اپنی سرزمین کے راستے بھارتی گندم کی افغانستان ترسیل کی اجازت دی ہے۔

وزارتِ تجارت کی جوائنٹ سیکرٹری نگہت مہروز نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں خود افغان صدر حامد کرزئی نے بھی درخواست کی تھی۔

’’چونکہ یہ گندم انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر بطور عطیہ دی جا رہی ہے اور کرزئی صاحب نے خود لکھا ہے ... ہم نے بھی انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر (اس کی ترسیل کی) صرف ایک مرتبہ اجازت دی ہے۔‘‘

نئی دہلی نے کابل کو اڑھائی لاکھ ٹن گندم عطیہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران کراچی کی بندرگاہ پر پہنچنے والی ایک لاکھ ٹن سے زائد گندم کو مال گاڑیوں اور ٹرکوں کے ذریعے براستہ چمن اور طورخم افغانستان منتقل کیا جا چکا ہے۔

نگہت مہروز نے اس تاثر کو رد کیا کہ یہ رعایت بھارت اور افغانستان کے مابین تجارت کے لیے پاکستانی سرزمین کے استعمال کی اجازت کو ظاہر کرتی ہے۔

’’ہم نے باقاعدہ تجارت کی اجازت نہیں دی ہے ... یہ فیصلہ افغانوں کی امداد کے لیے کیا گیا ہے کیوں کہ اُن کے ہاں خوراک کی قلت ہے اور یہ (بھارت کی) کوئی تجارتی کھیپ نہیں ہے۔‘‘

مبصرین پاکستان کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی اس رعایت کو دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اور قدم قرار دے رہے ہیں۔

افغانستان میں اشیاء خورد و نوش اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان کا اہم کردار رہا ہے جس نے خشکی سے محصور ہمسایہ ملک کو تجارت کے لیے اپنی سرزمین تک مشروط رسائی دے رکھی ہے، مگر تجارتی راہ داری سے متعلق مروجہ معاہدہ بھارتی اشیاء کی پاکستان کے راستے افغانستان ترسیل کی اجازت نہیں دیتا۔

بھارت طویل عرصے سے پاکستانی سرزمین کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کی خواہش کا اظہار کرتا آ رہا ہے لیکن پاکستان نے اس سلسلے میں پیش رفت کو دونوں ممالک کے مابین دیرینہ تنازعات کے حل سے مشروط کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG